کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے ایک شخص کو زمین کے کاغذات بنوانے کے لئے 15 لاکھ روپے دیے، جبکہ زبانی معاہدہ 30 لاکھ کا ہوا، 15 لاکھ روپے کا غذات بنوانے سے پہلے اور 15 لاکھ کام ہو جانے کے بعد، اس شخص نے 15لاکھ وصول کر کے تمام کاغذات جعلی بنا کر دیے ،اور مجھ سے فراڈ کیا، پھر مجھ سے چھپنے لگا، اور ایک سال تک بہانے بنا تا رہا،چونکہ معاہدہ زبانی تھا ،میرے پاس کوئی تحریری ثبوت بھی نہیں تھا ،جو میں قانونی کاروائی کرتا، تو اس سلسلے میں اپنے ایک دوست جو کافی اثر رسوخ والا تھا، اس سے رابطہ کیا، اور ملاقات کی اور میں نے کہا کہ اگر وہ مجھے میری رقم 15 لاکھ اس فراڈیے سے واپس دلا دے ،یا باقی کے 15 لاکھ لے کر اصل کا غذات بنوا دے ،تو میں اپنی خوشی سے آپ کو 2 لاکھ روپے دوں گا،کیونکہ میں جانتا تھا کہ اس کام میں میرے دوست کو کافی وقت اور محنت لگانی پڑے گی، یعنی میں نے اپنی تمام وکالت کے لئے اسے اپنا وکیل مقررکر لیا ،میرے دوست نے کافی بھاگ دوڑ کے بعد دو ماہ بعداس شخص کوپکڑ کر رقم کی واپسی یا پھر باقی ۱۵لاکھ لے کر کا غذات درست کرنے کیلئے کہا، وہ شخص اس بات پر راضی ہو گیا کہ باقی 15 لاکھ روپے لے کر کا غذات بالکل اصل بنوا کر دے گا ،میں نے اپنے دوست سے یہ معاہدہ کیا تھایا میری رقم واپس ہو جائے یا پھر یہ شخص باقی 15 لاکھ روپے لے کر میرے کا غذات صحیح کروادے، تو میں باقی کے 15 لاکھ 2 گھنٹے کے اندر دینے کیلئے تیار ہوں، جبکہ وہ شخص تو راضی ہے، مگر دو ماہ سے 15 لاکھ کا مجھ سے کوئی بندوبست نہیں ہو پارہا، میرے دوست نے اپنی کافی محنت کی اور کام مکمل کیا معاہدے کے مطابق، اب مجھے اس کو 2 لاکھ روپے ابھی ادا کر دینے چاہیئے یا پھر 15 لاکھ دے کر اپنا کام مکمل ہو جانے کے بعد؟ تحریری جواب دے کر مسئلہ حل فرمائیں اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین!
اگر سائل کے دوست نے معاہدہ کے مطابق اپنا کام مکمل کر لیا ہو، اور زمین کے اصلی کا غذات بنوائے ہوں، تو سائل پر لازم ہے کہ معاہدہ کے مطابق اسے معاوضہ ادا کرے، اور بے جا ٹال مٹول سے اجتناب کرے ،اور اگر اس سے واقعۃً رقم کا بندوبست نہ ہو رہا ہو تو اپنے دوست سے مہلت طلب کر سکتا ہے، اور دوست کو بھی چاہیئے کہ اس کے ساتھ مروّت اور دوستی والا رویہ اختیار کرے۔
ففي تفسير الخازن: وأوفوا بالعهد أي الإتيان بما أمر الله به والانتهاء عما نهي عنه وقيل : أراد بالعهد ما يلتزمه الإنسان على نفسه إن العهد كان مسؤلا أي عنه وقيل مطلوبا وقيل : العهد يسأل فيقال فيم نقضت كالموءودة تسأل فيم قتلت اھ (3/ 129)۔
وفي مشكاة المصابيح: وعن عبد الله بن عمرو أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "أربع من كن فيه كان منافقا خالصا ومن كانت فيه خصلة منهن كانت فيه خصلة من النفاق حتى يدعها إذا اؤتمن خان وإذا حدث كذب وإذا عاهد غدر وإذا خاصم فجر" (متفق عليه) اھ (1/ 12)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله: لأن المواعيد قد تكون لازمة) (إلی قوله) أن المواعيد باكتساء صور التعليق تكون لازمة فإن قوله أنا أحج لا يلزم به شيء ولو علق وقال إن دخلت الدار فأنا أحج يلزم الحج اھ (5/ 277)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0