السلام علیکم! میرے والد ایک سبک دوش (ریٹائر) بینک ملازم ہیں، میں وراثت کے بارے میں پریشان ہوں، کیونکہ میں اپنے والد کی کمائی کو حلال تصور نہیں کرتا اپنے لئے، تو اس طرح وراثت کے سلسلے میں میری کیا حیثیت ہے؟ میرے خیال میں تو یہ بھی حرام ہے، لیکن میں کوئی عالم نہیں ہوں۔
اگر آپ کے والد بینک کے کسی ایسے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں کہ جس کا تعلق براہِ راست سودی معاملات سے ہو، مثلاً منیجر، کیشئر وغیرہ اور اس تنخواہ اور فنڈ کے علاوہ اس کے پاس کوئی حلال مال نہ ہو تو اس صورت میں مذکور مال کو اصل مالکوں کی طرف لوٹانا ضروری ہے، اگر وہ معلوم نہ ہوں، تو پھر بغیر نیتِ ثواب کے فقراء پر صدقہ کر دیں، مگر یہ آپ کے اختیار میں نہیں، اس لئے آپ کو مال میں سے کچھ لینے سے احتراز لازم ہے۔
ففی الفتاوى الهندية: وإذا مات الرجل وكسبه خبيث فالأولى لورثته أن يردوا المال إلى أربابه فإن لم يعرفوا أربابه تصدقوا به وإن كان كسبه من حيث لا يحل وابنه يعلم ذلك ومات الأب ولا يعلم الابن ذلك بعينه فهو حلال له في الشرع والورع أن يتصدق به بنية خصماء أبيه كذا في الينابيع اھ (5/ 349)۔
وفی حاشية ابن عابدين: وعلى هذا قالوا لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه اھ (6/ 385) ۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2