مفتی صاحب! سوال یہ ہے کہ میں مسواک کا کاروبار کرتا ہوں، بڑے پیمانے پر یعنی میں کھلا مسواک منگوا کر اس کو کبھی لاہور رائیونڈ بھیجتا ہوں ،کبھی پشاور اور کبھی پنڈی، بس جہاں سے آڈر آجائے ،وہاں بھیجتا ہوں ، اب اس کھلے مسواک کےکاروبار کے دوران ایک صاحب آیا ،اور اس نے مجھے مشترکہ کاروبار کی دعوت دی،لیکن وہ مشترکہ جو کاروبار ہے، وہ بھی فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے والا کاروبار کھلے مسواک کاہے، اور مشترکہ کاروبار پیکنگ والا یعنی مسواک کو شاپر میں ڈال کر پیک کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ الخیر مسواک یا حلیمی مسواک یا الفلاح مسواک ۔ پوچھنا یہ ہے کہ پیکنگ والے مسواک میں بھی کھلے مسواک کی خریداری کی ضرورت ہوتی ہے، جو کہ ہم لوگ سندھ کے باشندوں سے خریدتے ہیں، مگر میں بذاتِ خود بھی کھلے مسواک کا کاروبار کرتا ہوں، کیا میں جو کھلے مسواک کا کاروبار کرتا ہوں کیا میں اپنے پارٹنر پر اور الگ والا کاروبار والی مسواک بھیج سکتا ہوں؟ اس لئے کہ پہلے بھی میں کھلے مسواک کا کام کرتا تھا، پیکنگ والا کام بعد میں شروع ہوا، کیونکہ میرا ذاتی کاروبار کھلے مسواک کا ہے۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ کبھی کبھار کھلے مسواک والا کاروبار کمزوری کی وجہ سے مارکیٹ میں سپلائی کم ہوتی ہیں، یہ کھلے مسواک والا کام تین قسم کا ہے: (۱) زیتون والی مسواک (۲) :حاگ والی مسواک (۳) :پیلو کی درخت والی۔ باقی میرا جو ذاتی کاروبار ہے، کھلے مسواک والا اس پر جتنا بھی خرچہ وغیرہ ہو رہا ہے، اس رقم میں ایک پیسہ بھی دوسرے کاروبار یعنی پارٹنر والی رقم بالکل شامل نہیں ہے۔ اور نہ میری یہ کوشش ہوتی ہے، ہاں اگر ایمرجنسی ہوتو میں ایڈوانس کا مطالبہ کرونگا، کیونکہ مجھ سے لوگ یعی سندھی جو مسواک نکالتا ہے ،وہ بھی ہم سے ایڈوانس کا مطالبہ کرتا ہے، مگر میں نے اب تک نہیں کیا، لہٰذا مہربانی کر کے اس مسئلے کو قرآن وسنت کی روشنی میں حل کیجیے۔
اگر یہ دونوں کاروبار باقاعدہ الگ الگ ہوں، اس طور پر کہ انہیں انجام دینے والے افراد اور حساب و کتاب بھی الگ ہو تو ایسی صورت میں اپنے شریک کی باقاعدہ اجازت سے مشترکہ اکاؤنٹ سے اپنے ذاتی کاروبار کیلئے یا ذاتی کاروبار سے مشترکہ کاروبار کیلئے قرض لینے کی اجازت ہے۔ اور اگر اس کا چلانے والا ایک ہی فرد ہو ،اور اس طرزِ عمل سے باہم خلط ملط ہونے کا اندیشہ ہو تو پھر احتراز چاہیئے ،اور اگر اپنے شریک کا حصہ بڑھا کر کھلی مسواک والے کاروبار میں بھی اُسے حصہ دار بنا لیا جائے ،تو یہ زیادہ بہتر اور الجھن سے نجات کا ذریعہ ہے۔
کما في بدائع الصنائع: وكان زيادة الربح لأحدهما على قدر رأس ماله بعمله وإنه جائز اھ (6/ 63)۔
وفي الدر المختار وحاشية ابن عابدين: (وإما عنان) بالكسر وتفتح (إن تضمنت وكالة فقط) (الى قوله) ولذا تصح عاما وخاصا ومطلقا ومؤقتا و (مع التفاضل في المال دون الربح وعكسه، وببعض المال دون بعض اھ (4/ 311) -
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0