کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے والد مسمٰی عبد المالک مرحوم نے محمد ایوب کو 3000 ہزار روپے دیے کہ میرے لئے زمین خرید لو، اور یہ تقریباً 15 سال پہلے کی بات ہے، اس نے زمین خریدی، اور اس کو آدھا کرکے آدھی زمین میرے والد کے نام پر کردی، اور آدھی زمین ویسے ہی چھوڑ دی، اور یہی کہا کہ یہ زمین ہم نے آپ کے پیسوں سے خریدی ہے ، جب میرے والد صاحب کو پتہ چلا کہ انہوں نے مجھے پوری زمین حوالہ نہیں کی ،تو انہوں نے زمین کا مطالبہ کیا، انہوں نے اس وجہ سے میرے والد صاحب کو قتل کیا، اور خود بھی انہوں نے اپنی زبان سے یہ اقرار کیا کہ ہم نے اس کو اس لئے قتل کیا ہے کہ یہ ہم سے زمین کا مطالبہ کر رہا تھا ، اس کے گواہ موجود ہیں، اور ایک گواہ جو محمد ایوب کا بیٹا ہے ،وہ خود گواہی دے رہا ہے کہ میرے والد نے یہ زمین عبد المالک کے پیسوں سے خریدی ہے ، اب سوال یہ ہے کہ اس زمین میں میرے والد کا حق ہے یا نہیں؟ قرآن وسنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
واضح ہو کہ اگر عبد المالک نے محمد ایوب کو پیسے دیکر زمین خرید نے کیلئے وکیل بنایا ہو تو محمد ایوب کا ان پیسوں سے زمین خریدتے ہی عبدالمالک اس کا مالک بن گیا، اب اس کی مرضی کے بغیر محمد ایوب کا اس زمین میں سے کچھ حصہ اپنے لئے رکھنا یا محض اپنے حصہ زمین کے مطالبہ پر عبد المالک کو قتل کرنا ہر دو امور ناجائز اور گناہ کبیرہ ہے، اب اگر واقعۃً بھی ایسا ہی ہوا ہو تو محمد ایوب اس کی وجہ سے سخت گناہ گار ہوا ہے ، اس پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہِ عظیم پر ندامت کے ساتھ توبہ واستغفار کرے، اور مذکورہ غصب شدہ زمین بھی اصل مالکان کے حوالہ کرے،جبکہ مقتول کے ورثاء اگر اسے معاف کرنا چاہیں تو بہتر ہے ،ورنہ قانونی چارہ جوئی کے ذریعہ اپنے مقتول کا قصاص لینے کا بھی انہیں حق حاصل ہے ۔
ففي التنوير: والملك يثبت للمؤكل ابتداءً اھ (۵/ ۵۱۴) ۔
وفي الدر المختار: عفو الولي عن القاتل أفضل من الصلح والصلح أفضل من القصاص اھ(6/ 548)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله عفو الولي عن القاتل أفضل) ويبرأ القاتل في الدنيا عن الدية والقود؛ لأنهما حق الوارث اھ (6/ 548)۔