السلام علیکم!میں ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ اس وقت میں کچھ مالی مشکلات کا شکار ہوں اور اپنے ایک دوست سے قرض لینا چاہتا ہوں، لیکن میرے دوست کے پاس جو رقم ہے وہ بینک سے لیے گئے قرض کی ہے، جس پر سود بھی شامل ہے۔ تو کیا میں اپنے دوست سے یہ رقم لے سکتا ہوں؟ کیا میرے لیے یہ رقم لینا بھی حرام شمار ہوگا؟ میں اپنے دوست کو کوئی سود نہیں دوں گا اور جوں ہی میری تنخواہ آئے گی، میں یہ رقم واپس کر دوں گا۔
صورت ِ مسئولہ میں اگر کوئی دوسرا شخص قرض دینے کے لیے دستیاب نہ ہو،تو سائل کے لیے بامرِ مجبوری اپنےمذکور دوست سے غیر سودی قرض لینے کی گنجائش ہے۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0