السلام علیکم! میں پاکستان سے شارجہ آیا سترہ اپریل کو ، میں نے ذہن بنایا ہوا ہے کہ اگر مجھے انٹرویو کے لۓ بلایا گیا (جو پاکستان میں ہونا ہے، مئی کے پہلے ہفتہ میں) تو میں واپس جاؤنگا ،مئی کی پہلی تاریخ کو ، ورنہ میں ادھر ہی رہونگا زیادہ وقت کے لۓ ، اب میری راہ نمائی فرما دیں کہ کیا قصر نماز پڑھوں جو کہ سفری نماز ہے یا پھر جو عام نماز ہے؟
جب شارجہ میں پورے پندرہ یا اس سے زائد دن ٹھہرنے کا پختہ عزم نہیں تو اس صورت میں سائل وہاں مسافر رہے گا اگرچہ پہلی تاریخ سے مزید پانچ یا دس دنوں تک ٹھہرنے کی ضرورت ہی کیوں نہ پڑ جائے الا یہ کہ جب وہ یکبارگی پندرہ یا اس سے زائد دنوں تک ٹھہرنے کی نیت کرلے یا اُسے یقین ہو کہ اس سے پہلے واپس جانا ممکن نہیں تو اس صورت میں وہ شارجہ میں مقیم شمار ہوگا اور اس کے لۓ قصر بھی جائز نہیں ہوگا۔
فی التنویر الابصار : (من خرج من عمارة موضع إقامته قاصدا مسيرة ثلاثة أيام و لياليها بالسير الوسط مع الاستراحات المعتادة صلى الفرض الرباعي ركعتين و لو عاصيا بسفره حتى يدخل موضع مقامه أو ينوي إقامة نصف شهر صالح لها فيقصر إن نوى) اھ (2/ 121تا 125)۔
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4