السلام علیکم کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام وعلماء عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کونقد روپیہ کی ضرورت ہے اب اگر وہ نقد روپیہ لے کر اضافے کیساتھ واپس کرتا ہے تو سود ہے
لہذا وہ قسطوں پر ساٹھ 60ہزار والا موبائل نوے ہزار پر خریدتا ہےبوجہ قسط کے, اور ماہانہ پانچ ہزار قسط ادا کریگا۔
اب یہ قسطوں پر موبائل لینے والا شخص اس موبائل کو دوسرے دکاندار پر کچھ تاوان و نقصان کیساتھ واپس فروخت کرتا ہےاور نقد رقم وصول کرتاہے اور اپنی ضرورت پورا کرتا ہےاور ماہانہ وار پانچ ہزار قسط ادا کریگا اور نوے 90 ہزار پورا کریگا یایہ قسطوں پر موبائل دینے والا موبائل کے بجائے ساٹھ 60 ہزار کا سعودی ریال خریدے اور ضرورت مند کو دے دے اور ضرورت مند اسکو از خود یا دوسرے کیساتھ اس ریال کو پاکستانی کرنسی میں تبدیل کریں اور ضرورت پورا کرتا ہےچونکہ موبائل میں کچھ زیادہ اور کرنسی میں کم نقصان آئے گا اور دونوں صورتوں میں نوے 90 ہزار پر پانچ ہزار ماہانہ قسط ادا کریگا تو دونوں مسئلوں کی حکم بتائیے۔جزاکم اللہ خیرا
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق اگر کوئی شخص، دکاندار سے شرعی شرائط کی رعایت رکھتے ہوئے موبائل خریدکر اپنے قبضے میں لانے کے بعد کسی اور دکاندار کو نقد میں فروخت کرکے رقم وصول کرتا ہے تو ایسا کرنے میں شرعا کوئی مضائقہ نہیں،
البتہ کرنسی کی مارکیٹ ریٹ سے کمی بیشی کے ساتھ خرید و فروخت کرنے میں چونکہ سود خوری کا شبہ ہے اس لئے کرنسی کو مارکیٹ ریٹ سے کمی بیشی کے ساتھ خرید وفروخت کرنے سے اجتناب کرنا چاہیئے۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0