کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام درجِ ذیل مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص نے دو لاکھ چالیس ہزاروپے کی کمیٹی ڈالی، کچھ عرصہ بعد پیسوں کی سخت ضرورت ہوئی، تو اس نے ایک آدمی سے قرض لینا چاہا کہ جب میری کمیٹی کھلے گی، میں واپس کر دوں گا ، اس آدمی نے کہا کہ میں اس شرط پر تجھے قرض دیتا ہوں کہ میں تجھے ابھی نقدی دو لاکھ روپے دوں گا ،لیکن جب تمہاری وہ کمیٹی جو دو لاکھ چالیس ہزار روپے کی ہے، وہ میں پوری لوں گا کیا اس طرح کرنا جائز ہے یا ناجائز ہے؟
واضح ہو کہ قرض پر ہرقسم کا مشروط اور معروف نفع وصول کرنا شرعاً سود کہلاتا ہے جو کہ نصوصِ قرآن و حدیث کی رو سے حرام اور ناجائز ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں دولاکھ روپے دیکر اس کے عوض دولاکھ چالیس ہزار روپے لینا جائز نہیں ،جس سے احتر از لازم ہے۔
كما في الشامية: تحت( قوله كل قرض جر نفعاً فهو حرام ) أى اذا كان مشروطاً كما علم مما نقله في البحر اھ (۵/166)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0