محترم جناب السلام علیکم!
بعد سلام عرض ہے کہ میرے شوہر کا انتقال ایک سال پہلے ہو گیا ہے اور انہوں نے اپنی زندگی میں ایک پلاٹ خریدا اور اس سلسلہ میں انہوں نے 3 سے 4 لوگوں سے قرض لیا۔ اور پلاٹ کے مالک مکان کو بھی تقریبا دو (۲)لاکھ روپیہ نہ دے سکے اور سب کے سب اپنا پیسہ مانگ رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی میں انشورنس بھی کروایا تھا۔ اور اب وہ انشورنس کا پیسہ بھی بینک میں آچکا ہے، مگر ان پیسوں میں صرف (60) ہزار ہمارے اپنے پیسے ہیں اور انشورنس والے 2 لاکھ 60 ہزار کا اماؤنٹ ہمارے اکاؤنٹ میں بھیج چکے ہیں۔ ہم تو صرف اپنا حلال پیسہ لینا چاہتے ہیں اور اضافی پیسوں کو بغیر ثواب کی نیت کے غریبوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں، مگر مسئلہ یہ ہے کہ قرض والے اب مزید برداشت نہیں کر رہے وہ ہر حال میں اپنا پیسہ لینا چاہتے ہیں، ہمارے پاس اس پلاٹ کے علاوہ ایک اور دوکان بھی ہے جو ہم لوگ ایک سال سے فروخت کرنا چاہ رہے ہیں، مگر ایک سال سے کوئی بھی خریدار نہیں مل رہا، ہم لوگوں کی یہی کوشش تھی کہ دوکان کو بیچ کر قرض داروں کو قرض ادا کر دیں، مگر دو کان کب فروخت ہوگی یہ کسی کو بھی نہیں پتہ اور قرض دار کسی قیمت پر بھی اور رکنا نہیں چاہتے، کیونکہ ان قرض داروں میں سے ایک قرض دار کی اگلے ماہ جون میں شادی ہے اور وہ اسی وجہ سے اپنا پیسہ مانگ رہے ہیں، جن کا قرض تقریباً چھ لاکھ ہے، لہذا میں عرض کرنا چا ہتی ہوں کہ انشورنس کا دو لاکھ اضافی پیسہ بطور قرض ہم لے کے قرض دار کو دیدیں اور جب بھی وہ دکان فروخت ہو تو ہم دو (2) لاکھ پورے کسی غریب کو دے دیں تاکہ ابھی قرض دار سے نجات مل جائے اور بہت بڑا مسئلہ حل ہو جائے تو کیا شریعت میں ان پیسوں کو استعمال کرنے کی فی الوقت اجازت مل جائیگی ؟کیا شریعت میں اس کی اجازت ہے؟
صورتِ مسئولہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اولا ًیہ کہ مذکور قرض سے فوری طور پر نجات کا ذریعہ سوائے اس رقم کے اور کوئی نہ ہو اور قرضدار مزید مہلت دینے سے انکاری ہوں ،ثانیاً یہ کہ اس دوکان کے فروخت ہونے اور وسعت حاصل ہونے پر انشورنس کی رقم سے ابھی خرچ ہونے والی تمام رقم کی مقدار صدقہ کی جائے گی۔ تو اس صورت میں بوقتِ مجبوری مذکور رقم سے اپنے ذمہ واجب الادا قرض کی ادائیگی کی گنجائش ہے۔ تاہم اس کے بعد دوکان فروخت کر کے یا کسی دوسرے جائز طریقہ سے رقم حاصل کر کے اس رقم کو اپنے مصرف میں خرچ کرنا شرعاً لازم ہوگا ۔ اس میں ٹال مٹول اور تاخیر سے احتراز لازم ہے۔
كمافی مسندأحمد: عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم۔ "إِن الله قسَم بينكم أخلاقَكم، كما قسَم بينكم أرزاقكم، (إلی قوله) ولا يَكْسب عبدٌ مالاً من حرام فينفقَ فيه فيباركَ له فيه، ولا يتصدق به فيقبلَ منه، ولَا يَترك خلف ظهره إلا كان زادَه إلى النار اھ (3/ 539)
وفي الفتاوى الھندية: وفي شرح حيل الخصاف لشمس الأئمة رحمه الله تعالى أن الشيخ أبا القاسم الحكيم كان يأخذ جائزة السلطان وكان يستقرض لجميع حوائجه وما يأخذ من الجائزة يقضي بها ديونه والحيلة في هذه المسائل أن يشتري نسيئة ثم ينقد ثمنه من أي مال شاء وقال أبو يوسف رحمه الله تعالى سألت أبا حنيفة رحمه الله تعالى عن الحيلة في مثل هذا فأجابني بما ذكرنا كذا في الخلاصة اھ(5/ 342)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0