کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جانور ذبح کرتے وقت کبھی ایسا امر پیش آتا ہے کہ ایک مسلمان عاقل ذابح ذبیحہ کرتے وقت بسم اللہ پڑھ کر ذبح کرتا ہے، لیکن کم مہارتی کی وجہ سے یا پہلی بار ذبح کرنے کی وجہ سے صرف دو رگوں کو (مثلاً حلقوم اور مری) مکمل اور تیسری رگ کا کچھ حصہ کاٹتا ہے ، اور رک جاتا ہے، پھر اس کو دیکھ کر ساتھ والا بندہ فورا اٹھ کر باقی رگیں بسم اللہ پڑھے بغیر کاٹ دیتا ہے، اب سوال یہ ہے کہ اس جانور کا کیا حکم ہے؟
صورتِ مسئلہ میں جانور ذبح کرتے وقت اگر ذابح نے جانور کی دو رگوں (حلقوم، مری) کو مکمل اور تیسری رگ کا اکثر حصہ کاٹ لیا ہو، تو ایسی صورت میں ذبح کا عمل مکمل ہو کر جانور حلال ہو جاتا ہے ، اس کے بعد اگر کوئی اور شخص ذابح کے ساتھ معاونت کرتے ہوئے تیسری رگ کا بقیہ حصہ اور چوتھی رگ بسم اللہ پڑھے بغیر کاٹے، تو اس کی وجہ سے وہ جانور حرام نہ ہو گا، تاہم احتیاطاً اسے بھی بسم اللہ پڑھ لینا چاہیئے۔
كما في الدر المختار: (وحل) المذبوح (بقطع أي ثلاث منها) إذ للأكثر حكم الكل وهل يكفي قطع أكثر كل منها؟ خلاف وصحح البزازي قطع كل حلقوم ومريء وأكثر اھ (6/ 295)۔
و في حاشية ابن عابدين؛ (قوله وصحح البزازي إلخ) عبارته: أصح الأجوبة في الأكثر عنه: إذا قطع الحلقوم والمريء الأكثر من كل ودجين يؤكل وما لا فلا اهـ. (6/ 295)۔
و في بدائع الصنائع: وللأكثر حكم الكل فيما بنى على التوسعة في أصول الشرع والذكاة بنيت على التوسعة حيث يكتفي فيها بالبعض اھ (5/ 42)۔
و في الدر المختار: وفيها أراد التضحية فوضع يده مع يد القصاب في الذبح وأعانه على الذبح سمى كل وجوبا، فلو تركها أحدهما أو ظن أن تسمية أحدهما تكفي حرمت (6/ 334)-