بسم الله الرحمن الرحیم!
محترم جناب مفتیانِ کرام جامعہ بنوریہ عالمیہ متصل سائٹ کراچی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! دارالافتاء جامعہ بنوریہ عالمیہ!
بعد از سلام ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص اپنے والد کے لئے عید الاضحیٰ میں اپنے پیسوں سے قربانی کا حصہ ڈالتا ہے، (اپنے پیسوں سے اپنے والد کے لئے قربانی کرتا ہے) اور اس شخص کا جو پیسہ ہے ،وہ ڈاون لوڈنگ گانے فلمیں وغیرہ فحش کاموں کی کمائی ہے، تو آیا اس شخص کا اپنے والد کے لئے قربانی درست ہے یا نہیں ؟ اور یہ قربانی ادا ہوگی یا نہیں؟ آپ حضرات کے خدمت میں گزارش ہے کہ مسئلے کی وضاحت فرما کر مشکور و ممنون فرمائیں۔جزاك اللہ خيرا في الدارين۔
شخصِ مذکور کی غالب آمدنی اگر حرام کی نہ ہو ،یا وہ قرض لے کر اپنی یا اپنے والد کی قربانی کرے ،تو وہ شرعاً درست ادا ہو جائے گی۔
كما في مسند أحمد مخرجا: القاسم بن محمد، يقول: سمعت أبا هريرة، يقول: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إن الله عز وجل يقبل الصدقة، ولا يقبل منها إلا الطيب، يقبلها بيمينه تبارك وتعالى، يربيها لعبده المسلم كما يربي أحدكم مهره، أو فصيله، حتى يوافى بها يوم القيامة مثل أحد» اھ (15/ 138)۔
و في الفتاوى الهندية: آكل الربا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه وإن كان غالب ماله حلالا لا بأس بقبول هديته والأكل منها كذا في الملتقط (5/ 343)۔