کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
چند اشخاص باہمی رضامندی سے ایک کمیٹی قائم کرتے ہیں جس میں ماہانہ آٹھ یا دس ہزار روپے تمام ممبران جمع کرتے ہیں اور قرعہ اندازی کے ذریعے ہر ماہ جمع ہونے والی رقم کسی ایک ممبر کو دیدی جاتی ہے۔ کمیٹی کے شرائط و ضوابط ذیل میں لکھے جاتے ہیں :
1- رقم جمع کرانے کی تاریخ ہر ماہ کی یکم سے دس تک ہے ۔ اگر کسی ممبر کو رقم جمع کرانے میں تاخیر ہو جائے تو کمیٹی کا سربراہ اپنے پاس سے اتنی رقم شامل کر دیتا ہے، یا جس کی پرچی اس مہینے نکلی ہو اس سے آئندہ ماہ پچھلی رہ جانے والی رقم کے بقدر وصول نہیں کرتے ۔
۲- پہلی مرتبہ میں کمیٹی کا سربراہ بغیر قرعہ اندازی تمام ممبران کی رضامندی سے اپنا انتخاب کرتا ہے، اس کے بعد ہر ماہ دیگر ممبران کے درمیان جن کا نام نہ آیا ہو،قرعہ اندازی ہوتی ہے۔
۳- تمام ممبران ہر ماہ سوروپے کمیٹی سربراہ کو کمیٹی چلانے کے عوض دیتے ہیں۔ جو ہر ماہ نہ دے سکے وہ اپنی پرچی نکلنے پر کل مدت کے ماہانہ سو روپے کے حساب سے دیدیتا ہے ۔
۴۔ کسی ممبر کے علیحدہ ہونے کی صورت میں اس کو اپنی جمع شدہ رقم تمام ممبران کی قرعہ اندازی کے بعد ہی ملتی ہے ۔
۵۔ کمیٹی میں شمولیت کسی جبر کے بغیر اپنی خوشی سے ہوتی ہے۔ ۶۔ کمیٹی سربراہ قرعہ اندازی کے لئے جس جگہ کا انتخاب کرے ، اس کی اطلاع تمام ممبران کو بمع تعیّنِ وقت کرتا ہے ، اگر تمام ممبران بر وقت نہ پہنچ سکیں تو فی الوقت موجود ممبران کے سامنے ہی قرعہ اندازی کا عمل سر انجام دیتا ہے۔
۷۔تمام ممبران کو شرائط و ضوابط تحریری طور پر فراہم کیے جاتے ہیں۔ جس پر وہ اظہار رضا مندی کر دیتے ہیں ۔
آپ حضرات سے گزارش ہے کہ شریعت کی روشنی میں مذکور کمیٹی اور اس کی شرائط و ضوابط اور کی حیثیت واضح فرمائیں۔
مذکور شرائط کی حامل کمیٹی کے ممبران کو ان کی طرف سے جمع کی گئی رقم چونکہ بغیر کسی کمی بیشی کے ملتی ہے اس لئے یہ بذریعہ قرضۂ حسنہ باہمی تعاون و تناصر کی ایک صورت ہے جو کہ شرعاً جائز اور درست ہے، جبکہ سربراہ کمیٹی کا سب شرکاء کی رضا مندی سے بغیر قرعہ اندازی سے پہلے اپنا انتخاب کرنا اور کمیٹی کا انتظام سنبھالنے کے عوض ممبران سے ہر ماہ سو روپے الگ سے بطورِ اجرت وصول کرنا بھی جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ۔
کمافی مرقاۃ المفاتیح: عن النبی ﷺ قال: الصلح جائز بین المسلمین الا صلحاً حرم حلالاً او احل حراماً والمسلمون علیٰ شروطھم ۔
وفی الدرالمختار: (هو) لغة: ما تعطيه لتتقاضاه، وشرعا: ما تعطيه من مثلي لتتقاضاه اھ(5/161)۔
وفیہ ایضاً: (ويكتب أساميهم ويقرع) لتطيب القلوب، (فمن خرج اسمه أولا فله السهم الأول، ومن خرج ثانيا فله السهم الثاني إلى أن ينتهي إلى الأخير اھ(6/262)۔
وفی خلاصۃ الفتاوی: من شرح الطحاوی۔رحمہ اللہ تعالیٰ۔المودع اذا شرط الاجر للمودع علیٰ حفظ الودیعۃ صح اھ(4/289)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0