سر مجھے معلوم کرنا ہے کہ میری طلاق ہوئی کہ نہیں،پہلے بھی فتوی لیا تھا پچھلے سال،جس کے مطابق ہمارے دو حق ختم ہوگئے تھے،اب میرے شوہر نے 18 اپریل کو دو بارہ فون کرکے غصے میں دو بار کہہ دیا ہے کہ میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں،مجھے جاننا ہے کہ میری طلاق ہو گئی ہے ؟بقول ان کے ہو گئی ہے، مجھے پلیز فتوی دیں ، جو کہ میں نادرا میں بھی جمع کروا سکوں،اور آگے کے69703 معلومات میں آسانی ہو،پرانا فتوی اٹیچ کر رہی ہوں۔
منسلکہ فتویٰ نمبر 69703 کے مطابق سائلہ کے شوہر نے جب ایک سال قبل " میں تمہیں طلاق دیتا ہوں " جیسے واضح الفاظ کے ساتھ تحریری طور پر دو طلاقیں دیدی تھیں ، اور اس کے بعد دورانِ عدت رجوع بھی کر لیا تھا، تو شرعاً بھی یہ رجوع درست ہوچکا تھا،جس کے بعد سائلہ کے شوہر کوآئندہ فقط ایک طلاق کا اختیار باقی تھا، لہذا اب حالیہ واقعہ کے دوران سائلہ کے شوہر نے جب فون پر غصے کی حالت میں مزید دو بار طلاق کے الفاظ بول دیے ،تو اس سے سائلہ پرتیسری طلاق بھی واقع ہوکر مجموعی اعتبار سے تینوں طلاقوں کے ساتھ حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ،جبکہ چوتھی طلاق محل نہ ہونے کی وجہ سے لغوہوچکی ہے ،لہذا اب رجوع نہیں ہوسکتا،اور بغیرحلالۂ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، جبکہ سائلہ ایام عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ۔
کمافی تنزیل القرآن : {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ)،(البقرہ :230)۔
وفي صحيح البخاري: عن عائشة،" ان رجلا طلق امراته ثلاثا فتزوجت، فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: اتحل للاول؟ قال:لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الاول".(5261)۔
وفی بدائع الصنائع : وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدةاھ (3/187)۔
وفی الھندیہ: وعدة الحامل أن تضع حملها كذا في الكافي. سواء كانت حاملا وقت وجوب العدة أو حبلت بعد الوجوب كذا في فتاوى قاضي خان اھ(1/528)۔