السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ، یہ ایک جائیداد کا مسئلہ ہے۔ میرے دادا اور دادی (مرحومین) کی ایک جائیداد تھی جو میرے دادا نے اپنی زندگی میں اپنی بیوی، یعنی میری دادی کے نام منتقل کر دی تھی۔ دادا دادی کے چھ بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں، جن میں سے دو بیٹے اور تین بیٹیوں کا انتقال ہو چکا ہے۔
مسئلہ:
میرے بڑے تایا کے بیٹے (یعنی میرے کزن) نے اس جائیداد پر 60 لاکھ روپے خرچ کر دیئے ہیں تیسری منزل پر اپنا گھر بنانے کے لیے اور اب وہ اس جائیداد کو فروخت کرنے پر راضی نہیں ہے۔ اس کی شرط ہے کہ پہلے مجھے میرے 60 لاکھ روپے واپس کیے جائیں، اس کے بعد ہی ہم کسی بات پر آگے بڑھیں گے۔ اس مکان میں تین پورشن ہیں، جن میں سے دو کرائے پر دئیے گئے ہیں اور ایک میں وہ خود رہائش پذیر ہے۔ یاد رہے کہ یہ گھر میری دادی (مرحومہ) کے نام پر تھا، اور یہ شخص، یعنی میرا کزن، ان کا پوتا ہے۔ نوٹ: (اس کے والدین، یعنی اس کے والد اور والدہ دونوں وفات پا چکے ہیں۔) باقی تمام ورثاء یعنی میرے چچا، تایا وغیرہ گھر کو فروخت کر کے سب کو ان کا حصہ دینے پر متفق ہیں، لیکن میرا کزن راضی نہیں ہے۔ اس کی یہی شرط ہے کہ پہلے میرے 60 لاکھ روپے واپس کیے جائیں جو میں نے گھر پر خرچ کیے ہیں۔
نوٹ: (اس نے یہ رقم اپنی ذاتی مرضی سے خرچ کی ہے، اور اس نے کسی بڑے یا خاندان کے فرد سے اس کی اجازت نہیں لی تھی۔)
آپ سے گزارش ہے کہ آپ اس مسئلے کو تحریری صورت میں ترتیب دیں، تاکہ میں اسے اپنے کزن کو دکھا سکوں اور سب ضرورت مندوں کو ان کا حق انصاف کے ساتھ مل سکے۔ جزاکم اللہ خیراً
سائل کے مذکور کزن نے اگر دادا /دادی کی زندگی میں یا ان کے انتقال کے بعد ورثاء کی اجازت کے بغیر اپنی رہائش کے لیے تیسری منزل کی تعمیر کی تھی تو یہ تعمیر تو اس کزن کی ملکیت ہے، لہذا اب اگر ورثاء مکان فروخت کرکے حاصل شدہ رقم میں سے اس تعمیر کی جو رقم بنتی ہو، وہ اس کزن کو دینا چاہیں تو یہ طریقہ سب سے احوط ہے، لیکن اگر ورثاء اس کزن کو تعمیر کی قیمت دینے پر راضی نہ ہوں اور تعمیر اکھاڑنے میں عمارت کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو اور مذکور کزن کے والدکا انتقال دادا/دادی کے بعد ہوا ہو تو ایسی صورت میں جتنی تعمیر اس کے اپنے حصہ میں آئیگی، اس تعمیر کا تو وہ خود مالک ہے، البتہ جو تعمیر دیگر ورثاء کے حصہ میں آئے گی تو مذکورکزن اس تعمیر کے ملبہ کی قیمت کا حقدار ہوگا، چنانچہ ورثاء اس ملبہ کی قیمت دیکر اس تعمیر کے مالک بن جائیں گے اور مذکور بلڈنگ فروخت کرکے جو رقم حاصل ہوگی تو وہ رقم تمام ورثاء میں حسب حصص شرعی تقسیم ہوگی۔ جبکہ شرعی طریقہ کار کے مطابق ترکہ کی تقسیم مطلوب ہو تو تمام ورثاء کی پوری تفصیل لکھ کر سوال دوبارہ ارسال کردیں، ان شاء اللہ غور وخوض کے بعد حکم شرعی سے آگاہ کردیا جائے گا۔
ففي الھدایة: ومن غصب أرضا فغرس فيها أو بنى قيل له اقلع البناء والغرس وردها" لقوله عليه الصلاة والسلام: "ليس لعرق ظالم حق" ولأن ملك صاحب الأرض باق، فإن الأرض لم تصر مستهلكة والغصب لا يتحقق فيها، ولا بد للملك من سبب فيؤمر الشاغل بتفريغها، كما إذا شغل ظرف غيره بطعامه.قال: "فإن كانت الأرض تنقص بقلع ذلك فللمالك أن يضمن له قيمة البناء والغرس مقلوعا ويكونان له"؛ لأن فيه نظرا لهما ودفع الضرر عنهما. وقوله قيمته مقلوعا معناه قيمة بناء أو شجر يؤمر بقلعه؛ لأن حقه فيه، إذ لا قرار له فيه فتقوم الأرض بدون الشجر والبناء وتقوم وبها شجر أو بناء، لصاحب الأرض أن يأمره بقلعه فيضمن فضل ما بينهما. (301/4، ط: دار احياء التراث العربی)
وفي الفتاوى الهندية: «ومن غصب أرضا فغرس فيها أو بنى قيل له: اقلع البناء والغرس وردها وإن كانت الأرض تنقص بقلع ذلك فللمالك أن يضمن له قيمة البناء أو الغرس مقلوعا ويكون له، ومعناه قيمة بناء أو شجر يوم يقلعه؛ لأن حقه فيه فتقوم الأرض بدون الشجر أو البناء وتقوم وبها شجر أو بناء أمر بقلعه فيضمن فضل ما بينهما كذا في الكافي.» (5/ 125)
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0