احکام حج

حج میں قربانی کا حکم

فتوی نمبر :
82459
| تاریخ :
2025-05-02
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

حج میں قربانی کا حکم

محترم، السلام علیکم
میری کمپنی نے اس سال مجھے حج کے لیے اسپانسر کیا ہے، جس میں تمام اخراجات کمپنی ادا کر رہی ہے۔ میری الجھن یہ ہے کہ حج کے دوران جو قربانی منیٰ میں کی جاتی ہے، کیا وہ بھی کمپنی کے اخراجات میں شامل ہو سکتی ہے؟ یا مجھے وہ قربانی اپنے ذاتی خرچ سے کرنی ہوگی؟میری الجھن اس لیے بھی بڑھ رہی ہے کیونکہ کمپنی حج پیکج کی مکمل رقم (قربانی سمیت) پہلے ہی ادا کر چکی ہے۔ لیکن اگر شرعی طور پر یہ قربانی مجھے خود اپنی طرف سے کرنی لازم ہے، تو میں کمپنی کو اس قربانی کی رقم واپس کرنے کے لیے تیار ہوں۔براہِ کرم اس معاملے میں جلد رہنمائی فرمائیں، کیونکہ وقت کم ہے اور میں بہت پریشان ہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسؤلہ میں اگر کمپنی نے حج کا پورا خرچ—including قربانی (دمِ شکر)—ادا کر دیا ہے، اور یہ سب اخراجات کمپنی کی طرف سے ہدیہ اور اجازت کے ساتھ کیے گئے ہیں، تو قربانی (دمِ شکر) ادا ہو جائے گی اور سائل پر الگ سے اپنی جیب سے قربانی کرنالازم نہیں ہوگا۔اس لیے کہ دمِ شکر (یعنی تمتع یا قران کی قربانی) واجب ہے، مگر اس میں لازم نہیں کہ رقم حاجی کی ذاتی ہوبلکہ اس کی اجازت سے اگرکوئی دوسراشخص بھی اداکردیگاتوشرعاًیہ کافی ہے ،لہذاسائل کوبلاوجہ پریشان ہونے سے احترازچاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

كمافي البدائع الصنائع في ترتيب الشرائع : (ومنها) أنه تجزئ فيها النيابة ‌فيجوز ‌للإنسان ‌أن ‌يضحي ‌بنفسه وبغيره بإذنه؛ لأنها قربة تتعلق بالمال فتجزئ فيها النيابة كأداء الزكاة وصدقة الفطر»(5/ 67)
وفی الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية: ومنها أنه تجري فيها النيابة ‌فيجوز ‌للإنسان ‌أن ‌يضحي ‌بنفسه أو بغيره بإذنه؛ لأنها قربة تتعلق بالمال فتجري فيها النيابة»(5/ 294)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سعد جاوید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 82459کی تصدیق کریں
0     17
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات