میں اپنی کمپنی کی طرف سے ملازمین کو براہِ راست (بینک کے بغیر) دیے جانے والے ہاؤس بلڈنگ لون کی شرعی حیثیت کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں۔ کمپنی یہ قرض پلاٹ یا گھر کی خریداری کے اخراجات کو پورا کرنے کے لئے دیتی ہے، کمپنی خود جائیداد کے انتخاب اور جانچ پڑتال کے عمل میں شامل ہوتی ہے، اور رقم صرف اس وقت جاری کی جاتی ہے جب جائیداد کی مارکیٹ ویلیو کی بنیاد پر اس کی تصدیق ہو جائے، جو رقم ملازم کو واپس کرنی ہوتی ہے، وہ پاکستانی روپوں میں پہلے سے طے شدہ ہوتی ہے (یعنی قسط کی مقررہ رقم اور قسطوں کی تعداد)، قسط کی رقم قرض سے زیادہ ہوتی ہے، لیکن یہ آغاز میں ہی مقرر کی جاتی ہے اور بعد میں اس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، نہ ہی یہ قرض کی بقایا رقم سے مشروط ہوتی ہے، قرض کی قسطیں تاخیر سے ادا ہونے پر کوئی جرمانہ یا سر چارج لاگو نہیں ہوتا، کیونکہ قسط کی رقم ملازم کی تنخواہ سے تحریری معاہدے کے تحت خودکار طور پر کاٹی جاتی ہے، اس لئے قسط چھوٹنے کا امکان نہیں ہوتا، جائیداد میرے نام پر رجسٹر ہوتی ہے، مگر جب تک میں پوری طے شدہ رقم واپس نہ کر دوں، میں اس جائیداد کو کمپنی کی اجازت کے بغیر فروخت یا تبدیل نہیں کر سکتا، اور اس کی اصل دستاویزات کمپنی کے پاس رہتی ہیں، اگر میں کمپنی چھوڑ دوں یا کمپنی مجھے نوکری سے نکال دے، تو کمپنی کو میرے پاور آف اٹارنی کے تحت یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جائیداد کو فروخت کرکے باقی قسطیں وصول کرے اور یہ سب اسی پہلے سے طے شدہ رقم کی بنیاد پر ہوتا ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاتی، ایک بات قابلِ غور ہے کہ کمپنی مجھے مجبور کرتی ہے کہ میں ایک گروپ لائف انشورنس حاصل کروں، تاکہ میری وفات کی صورت میں قرض کی ادائیگی یقینی ہو، یہ انشورنس کمپنی خود کرواتی ہے اور اس کا پریمیم کمپنی اور میں برابر برابر (50/50) ادا کرتے ہیں۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور کمپنی اگر جائیداد کے انتخاب اور جانچ پڑتال کے عمل کے بعد اپنے ملازم کو نقد رقم قرض دیتی ہو اور اس رقم کی وصولی کے بعد ملازم از خود گھر یا پلاٹ کی خریداری کرتا ہو تو یہ معاملہ بھی سودی ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز ہے، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے، البتہ کمپنی اگر ملازم کو براہِ راست نقد رقم نہ دیتی ہو بلکہ پلاٹ وغیرہ از خود یا اپنے کسی وکیل کے ذریعے خرید کر اس پر قبضہ کے بعد اپنے ملازم کو باہمی رضامندی سے مارکیٹ ویلیو کے حساب سے فروخت کرتی ہو تو یہ معاملہ شرعاً جائز ہے، البتہ ابتداءً یہ طے کر لیا جائے کہ یہ ادھار اور قسطوں کا معاملہ ہوگا، اس میں کل اتنی قسطیں ہوں گی اور ہر قسط کی مالیت یہ ہوگی اور کسی قسط کے شارٹ ہونے پر کوئی چارجز بھی وصول نہیں کئے جائیں گے۔
جبکہ مروجہ انشورنس ”بیمہ پالیسیاں“ جوئے، قمار اور سودی معاملات پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں، اس لئے انشورنس خواہ زندگی سے متعلق ہو یا دیگر اموال سے متعلق ہو، بہر صورت اس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر یہ لائف انشورنس کمپنی خود کرتی ہو اور سائل کی جانب سے اس کا پریمیم جبراً کاٹا جاتا ہو اور اسے اس سے انکار کا اختیار حاصل نہ ہو تو اس صورت میں مذکور انشورنس پالیسی لینے کی گنجائش ہے اور اس پر آنے والے وبال اور گناہ کی ذمہ دار کمپنی ہوگی۔
کما فی الدر المختار : ( و يكون بقول أو فعل، اما القول فالایجاب و القبول ) و هما ركنه، و شرطه اهلية المتعاقدين و محله المال و حكمه ثبوت الملك الخ ( كتاب البيوع ، ج: 4 ، ص: 504 ، ط: ایچ ایم سعید)۔
و فى الهندية : و اما شرائط النفاز فنوعان احدهما الملك او الولاية و الثانی ان لا يكون فی المبيع حق لغير البائع فان كان لا ينفد كالمرهون و المستاجر كذا فی البدائع و اما شرائط الصحة فعامة و خاصة فالعامة لكل بيع ما هو شرط الانعقاد لان ما لا ينعقد لم يصح و لا ينعكس (الى قوله) و منها ان يكون المبيع معلوما و الثمن معلوما علما يمنع من المنازعة فبيع المجهول جھالة تفضى اليها غير صحيح كبيع شاة من هذا القطيع و بيع شئ بقيمته و بحكم فلان (إلى قوله) و اما الخاصة فمنها معلومية الاجل فی البيع بثمن مؤجل فيفسدان كان مجهولا و منها القبض فی بيع المشترى المنقول (الى قوله) و اما حكمہ فثبوت الملك فی المبيع للمشترى و فى الثمن للبائع اذا كان البيع باتا و ان كان موقوفا فثبوت الملك فيها عند الاجازة كذا فی محيط السرخسی الخ ( کتاب البیوع ، ج: 3 ، ص: 3 ، ط: الماجدیة )۔
وفی شرح المجلة: البيع مع تأجيل الثمن وتقسيطه صحيح (إلى قوله) يلزم أن تكون المدة معلومة في البيع بالتاجيل والتقسيط اھ (المادۃ 245/246 ، ج: 2 ، ص: 166 ، ط: اسلامیۃ)ـ
وفی فقہ البیوع : و كما يجوز ضرب الأجل لأداء الثّمن دفعةً واحدة ، كذلك يجوز أن يكون أداء الثّمن بأقساط ، بشرط أن تكون آجال الأقساط و مبالغها معينةً عند العقد . و قد يُسمّى "البيع بالتقسيط"، و هو نوع من البيع المؤجل الخ (البیع بالتقسیط ، ج:1 ، ص: 539 ، ط: معارف القرآن)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0