2012 میں میرے خاوند نے دوست سے ساٹھ لاکھ روپے لیکر کورٹ سے گھر خریدا ،بیس لاکھ خاوند نے اپنے پاس سے دیے، اور ساٹھ لاکھ دوست سے قرض لیکر، اور دو سال بعد گھر کے کاغذات دوست کے کاروبار میں بزریعہ ضمانت رکھ دیے، 2022 میں خاوند کا انتقال ہو گیا ،اب دوست نے گھر کے کاغذات اپنے پاس ضبط کر لیے ہیں اور تقاضا ہے کہ گھر بیچ کر اس کا ستر فیصد حصہ ان کو دوں باقی خود رکھو ں ؟اسوقت گھر کی ویلیو آٹھ کروڑ ہے ، رہنمائی فرمائیں شوہر کا قرض کس طریقے سے ادا کریں ؟ خالص قرض کی رقم ادا کریں یا گھر بیچ کر ستر فیصد ادا کریں ؟
واضح ہو کہ قرض لیتے وقت جتنی رقم لی جائے ،قرض لوٹاتے ہوئے اتنے ہی رقم کی ادائیگی لازم و ضروری ہوتی ہے،اسی طرح جو شخص جتنی رقم قرض دیدے اس کے لئے اتنےہی رقم کا مطالبہ کرنا اور اس کا وصول کرنا جائز و درست ہے،کرنسی کی ویلیو میں کمی یا زیادتی ہونے کی بناء پر کمی یا زیادتی کا مطالبہ کرنا سود ہونے کی بناء پرشرعاً جائز نہیں ،لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے شوہر نے اگر واقعۃً اپنے دوست سے گھر کی خریداری کیلئے ساٹھ لاکھ روپے بطورِ قرض لیے ہو ں،اسے گھر میں شریک کرنے کی غرض سے نہ لیے ہوں،تواس رقم سے لیا گیا گھر فقط مرحوم ہی کی ملکیت شمار ہوگا، چنانچہ اب سائلہ یا مرحوم کے دیگر ورثاء کے ذمہ مرحوم کے ترکہ سےوہی ساٹھ لاکھ روپے کی ادائیگی لازم ہےچاہے مذکور گھر بیچ کر ادائیگی کریں یا مرحوم کے دیگر اموال و جائیداد سےکریں،جبکہ مرحوم کے دوست کیلئے قرض دیے ہوئے ساٹھ لاکھ روپے کے بجائے مرحوم کے ورثاءسے مذکور گھر کے بیچنے اور اس سے ستر فیصدرقم کی ادائیگی کا مطالبہ کرنا سود پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز و حرام ہے اس لئے اسے اپنے اس ناجائزمطالبہ سے احتراز لازم ہے۔
وفی العقود الدریۃ فی تنقیح فتاوی الحامدیۃ: (سئل) رجل استقرض من آخر مبلغا من الدراھم وتصرف بھا ثم غلا سعرھا فھل علیہ رد مثلھا؟ نعم ولاینظر إلی غلاء الدراھم ورخصھا کما صرح بہ فی المنح فی فصل القرض إلخ( باب القرض،ج:1، ص: 294، ط: مکتبہ حقانیۃ )۔
وفی الدر المختار: وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام الخ۔
وفی الرد تحت (قوله: كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به الخ( کتاب البیوع،مطلب کل قرض جر نفعا فھو حرام، ج 5، ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی الرد أیضاً تحت: (قولہ ھلک بالدین) لما تقرر أن الديون تقضى بأمثالها إلخ(کتاب الرھن، فصل فی مسائل متفرقۃ، ج: 6، ص: 525، ط: سعید)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0