السلام علیکم! ایک جوان لڑکا حج کے لیے آیا، اس نے حج کے تمام مناسک مکمل کیے، 8 ذی الحجہ سے لے کر 12 ذی الحجہ تک کی رمی بھی کر لی اور منیٰ سے واپس ہوٹل آگیا،رات کے وقت غفلت اور نفس کے دباؤ میں آکر اُس نے مشت زنی (اپنے ہاتھ سے انزال) کر لی،اب سوال یہ ہے کہ اس عمل پر اس کے لیے کیا کفارہ (دَم) لازم آئے گا؟
صورتِ مسؤلہ میں مذکور شخص نے اگر حج کے تمام مناسک مکمل کرنے کےبعد مشت زنی کا ارتکاب کیا ہو، تو اس کی وجہ سے اگرچہ سائل کے ذمے دم لازم نہیں، تاہم حرمِ مکی جیسے مقدس مقام پر مشت زنی کا ارتکاب بہت بڑی بدبختی اور شقاوتِ قلبی کی علامت ہے، جس کی وجہ سے وہ سخت گنہگار ہوا ہے، اس پر لازم ہے کہ وہ سچے دل سے توبہ و استغفار کرے اور آئندہ کے لیے اس عمل سے مکمل اجتناب کرے۔