اگر کسی شخص نے حجِ قران کے دوران دس ذوالحجہ کی رمی صبح صادق سے پہلے اور گیارہ اور بارہ ذوالحجہ کی رمی زوال سے پہلے ادا کر لی ہو تو ان کو ہر رمی کا علیحدہ علیحدہ دم دینا ہو گا یا پھر ایک دم ہی کافی ہو گا؟ جزاک اللہ خیراً۔
واضح ہو کہ کسی شخص پر دورانِ حج ایک ہی جنس کی متعدد جنایات سرزد ہونے کی وجہ سے دم لازم ہو جائے تو اس کے لیے ان تمام جنایات کے ازالے کے لیے ایک دم دینا کافی ہوتا ہے، ہر ایک جنایت کے بدلے مستقل الگ الگ دم دینا لازم نہیں ،لہذا صورتِ مسئولہ میں شخص مذکور پر ایک دم ہی لازم ہوگا۔
کمافی الفتاوى الهندية : وله أوقات ثلاثة يوم النحر وثلاثة من أيام التشريق أولها يوم النحر ووقت الرمي فيه ثلاثة أنواع مكروه ومسنون ومباح فما بعد طلوع الفجر إلى وقت الطلوع مكروه وما بعد طلوع الشمس إلى زوالها وقت مسنون وما بعد زوال الشمس إلى غروب الشمس وقت مباح والليل وقت مكروه كذا في محيط السرخسي ولو رمى قبل طلوع الفجر لم يصح اتفاقا كذا في البحر الرائق وأما وقت الرمي في اليوم الثاني والثالث فهو ما بعد الزوال إلى طلوع الشمس من الغد حتى لا يجوز الرمي فيهما قبل الزوال الخ(الباب الخامس فی کیفیة اداء الحج،ج:1،ص:233،ط:ماجدیة)۔
وفی العنایة شرح الھدایة:(ومن ترک رمی الجمار فی الایام کلھا فعلیه دم) لتحقق ترک الواجب ویکفیه دم واحد لان الجنس متحد الخ(باب الجنایات،ج2،ص124،ط:بیروت)۔
وفیها ایضاً: التأخير عن المكان يوجب الدم فيما هو موقت بالمكان كالإحرام فكذا التأخير عن الزمان فيما هو موقت بالزمان الخ(باب الجنایات،ج:2،ص:126،ط:بیروت)