کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کے دو بھائی ایک بیوی ایک بیٹی وارث ہیں ،زید کے انتقال کے بعد جب تقسیم میراث کا معاملہ پیش آیا،تو معلوم ہوا کہ زید نے اپنی مملوکہ زمین اپنی بیوی کے نام کر دی تھی ،سرکاری کا غذات میں وہ زمین بیوی کے نام پر تھی، بعد ازاں وہ زمین زید مرحوم کی بیوی نے اپنی اکلوتی بیٹی کو دیدی اور کاغذات میں بیٹی کے نام انتقال کر دی ۔
جبکہ زید مرحوم کے ایک بھتیجے عیسی خان مرحوم مجھے (جو اس وقت مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب میں تھا) نے اپنے چچا زید کو حج کروایا تھا، زید کی وفات کے بعد اس کی بہنوں اور دیگر وارثوں نے فیصلہ کیا کہ چونکہ عیسی خان نے زید کو حج کروایا ہے یہ رقم اس کے ذمے قرض ہے، لہٰذا اس کے بدلے زید کی مذکورہ زمین عیسیٰ خان کو اس کے بدلے میں دیدی جائے ۔ چنانچہ اب عیسی خان مرحوم کے بیٹے اس بات کا دعوی کرتے ہیں کہ یہ زمین ہماری ہے۔ اب دریافت طلب امور یہ ہیں:
۱: کیا سرکاری کا غذات کی بنا پر یہ زمین (زید مرحوم کی بیوہ کی ملکیت ہوگی ؟ اور پھر بیوہ کا اس زمین کو بیٹی کے نام منتقل کر دینا درست ہوگا؟ یا کے یہ زمین مرحوم کے وارثوں میں تقسیم ہوگی ؟
۲:کیا عیسیٰ خان مرحوم کے بیٹوں کا اس زمین پر دعوی درست ہے ؟ یادر ہے کہ زید مرحوم کی میراث اس زمین کے علاوہ نقدی وغیرہ تقسیم ہو چکی ہے۔
واضح ہو کہ مسمی زید نے اگر واقعتۃً اپنی مملوکہ زمین اپنی بیوی کے نام کروانے کے بعد اس پر اسے باقاعدہ مالکانہ قبضہ بھی دے دیاتھا ، تو وہ زمین اس کی بیوی اور اسی طرح اس کے بعد اس کی بیٹی کی ملک ہو چکی ہے، اس میں کسی دوسرے کا کوئی حق نہیں، بلکہ مذکور بیٹی اس میں جس طرح چاہے تصرف کر سکتی ہے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ عیسی خان مرحوم نے اپنے چچا مسمیٰ زید مرحوم کو اگر بغیر کسی معاہدہ کے محض چچا اور بزرگوار ہونے یا بھائی بندی کے طور پر حج کروایا تھا، تو یہ اس کی طرف سے تبرّع اور احسان ہے ، جس پر اللہ تعالی اسے اجر و ثواب عطاء فرمائیں گے، لہٰذا حج کے اخراجات کی ادائیگی مسمیٰ زید مرحوم کے ذمہ لازم اور قرض نہیں، لہٰذا عیسیٰ خان مرحوم کی اولاد کا مسمیٰ زید کی زمین پر دعویٰ یا اخراجات حج کی واپسی کا مطالبہ درست نہیں، اس سے احتراز لازم ہے ۔
ففي الدر المختار: (و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح. (5/ 688)۔
و في الدر المختار: والدراهم تتعين في هبة ورجوع مجتبى اھ (5/ 702)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: ورجوع) أي ليس له أن يرجع إلا إذا كانت دراهم الهبة قائمة بعينها فلو أنفقها كان إهلاكا يمنع الرجوع اھ (5/ 702)۔
و في العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: (سئل) في دار مشتركة بين زيد وورثة أخيه فاحتاجت للعمارة فعمرها زيد بدون إذن ورثة أخيه ولا أمر القاضي ويريد الرجوع على الورثة المرقومين فهل ليس له ذلك ويكون متطوعا؟ (الجواب) : نعم الدار المشتركة إذا استرمت فأنفق أحدهما في مرمتها بغير أمر صاحبه وبغير أمر القاضي فهو متطوع اھ (2/ 278)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2