کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اور مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ گزشتہ ڈیڑھ دو سال سے ایک وبائی مرض کو رونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے ، جس سے لاکھوں لوگ متأثر اور ہزاروں لوگ جان کی بازی ہار چکے ہیں، اور اس کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہو رہی ہیں، عبادت گاہیں اور تعلیمی سلسلہ بھی خاصا تعطیل کا شکار ہے، لوگوں کی خوشی و غمی کی تقریبات پھیکی پڑ چکی ہیں، کچھ عرصہ قبل مختلف ممالک کی کوششوں سے اس وائرس کے علاج اور صحت مند افراد کے لئے "حفظ ما تقدم " کے طور پر ویکسین تیار کی گئی ہے ، جس کے بغیر بیرون ممالک کے اسفار بھی نہیں ہو سکیں گے، بشمول حج کے، لیکن مذکور ویکسین آنے کے بعد اس میں مختلف قسم کے شکوک و شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے، لہذا ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہماری اولین ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ اس کی شرعی حیثیت معلوم کریں ، اس لئے آنجناب سے درخواست ہے کہ عوام الناس کی رہنمائی فرمائیں کہ اس ویکسین کا استعمال کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ اللہ تعالی آپ کی مساعیِ جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین!
سوال میں مذکور وائرس دنیا کے بیشتر مسلم و غیر مسلم ممالک میں پھیلا ہوا ہے ، اور حکومتی سطح پر غالباً اس کا " جان لیوا" ہونا بھی تسلیم کر لیا گیا ہے، اور خبروں کے ذریعہ عوام کو اس سے بچاؤ کی تدابیر اختیار کرنے کی مہم بھی چلائی جارہی ہے ، چنانچہ اس تناظر میں اگر کوئی شخص اپنی ذاتی تحقیق سے یا حکومتی اتھارٹی کے ذریعہ ، کسی مستند ماہر دیندار ڈاکٹر سے اس بات کا اطمینان کرلے کہ اس کے اجزاءِ ترکیبی میں کوئی حرام یا مضر صحت جزو شامل نہیں، تو احتیاطی تدبیر کے طور پر اس کا یہ ویکسین لگوانا، چاہے علاج کی غرض سے ہو یا " حفظ ما تقدم " کے طور پر ، بلا شبہ جائز اور درست ہے، عوام الناس کو چاہیئے کہ انسانی جان کے تحفظ کے پیشِ نظر اس کا اہتمام کریں ، اور بلا وجہ شکوک و شبہات میں نہ پڑیں، اور اہلِ حکومت کو بھی چاہیئے کہ اس سلسلہ میں کسی قسم کے جبر کے بجائے ادویہ پر اجزاءِ ترکیبی اور حکومتی اتھارٹی کی رائے درج کرنے کا اہتمام کریں، تا کہ عوام پر و پیگینڈہ سے متاثر ہو کر شکوک و شبہات میں مبتلا نہ ہوں۔
كما في تيسير الوصول إلى منهاج الأصول: والأصل في المضار أي: الأشياء الضارة التحريم، لقوله -عليه الصلاة والسلام-: "لا ضرر ولا ضرار في الإسلام" رواه أبو داود في المراسيل. (6/ 96)۔
و في الدر المختار: (والحقنة) للتداوي ولو للرجل بطاهر لا بنجس وكذا كل تداو لا يجوز إلا بطاهر وجوزه في النهاية بمحرم إذا أخبره طبيب مسلم أن فيه شفاء ولم يجد مباحا يقوم مقامه. قلت: و في البزازية ومعنى قوله - عليه الصلاة والسلام - «إن الله لم يجعل شفاءكم فيما حرم عليكم» نفي الحرمة عند العلم بالشفاء دل عليه جواز شربه لإزالة العطش اهـ (6/ 389)۔
و في المبسوط للسرخسي: ويكره الاحتقان بالخمر، والإقطار منها في الإحليل، ولا حد في ذلك أما الاستشفاء بعين الخمر، فقد بينا أنه لا يحل عندنا والشافعي يجوز ذلك إذا أخبره عدلان أن شفاءه في ذلك، ولا حد عليه لشبهة اختلاف العلماء - رحمهم الله - في إباحة هذا الفعل، ولحاجته إلى التداوي اھ (24/ 25)۔
پینٹ فولڈ کرکے نماز پڑھنے کا حکم -خاندانی منصوبہ بندی کے جائز و ناجائز طریقے
یونیکوڈ حرام طریقہ علاج و ادویات 0شادی سے قبل اپنی مرادنگی چیک کرنے کے لئے کسی غیر عورت سے ہمبستری کرنا جائز ہے؟
یونیکوڈ حرام طریقہ علاج و ادویات 0ہو میو پیتھک کی ادویات میں الکحل شامل ہوتا ہے تو ان کے استعمال کا شرعی حکم کیا ہے؟
یونیکوڈ حرام طریقہ علاج و ادویات 0مردوں اور عورتوں کے لیے خضاب، اور الکحل والی پرفیوم استعمال کرنے کا حکم
یونیکوڈ حرام طریقہ علاج و ادویات 0