السلام علیکم!مجھے انتہاء درجے کی رش سے الرجی ہے، کسی رش والی جگہ پر جانا میرے لئے موت کے مترادف ہے، اور یہ کیفیت بچپن سے میرے اوپر مسلط ہے،مجھ پر حج فرض ہے، اور اس کے رش کا سوچ کر میری بس ہو جاتی ہے ،کیا میں حج بدل کی وصیت تیار کر کے رکھ سکتا ہوں؟
سائل اگر صاحب استطاعت ہو، اور اس پر حج فرض ہو چکا ہو، تو محض ذہنی بے سکونی کی وجہ سے حج جیسے فریضہ کی ادائیگی میں کوتاہی کرنا شرعا جائز نہیں، بلکہ اسے چاہیئے کہ حج کی ادائیگی سے قبل ایک دفعہ عمرہ کی ادائیگی کی ترتیب بنا کر اپنے آپ کو اس ماحول کا عادی بنانے کی کوشش کرے ،امید ہے کہ اس کی لذت اور برکات کی وجہ سے اس کے لئے فریضہ حج کی ادائیگی میں سہولت ہوگی، تا ہم اس تمام تر سعی و کوشش کے باوجود اگر وہ اپنی صحت والی زندگی میں ادائیگی حج سے قاصر رہتا ہے، اور زندگی کے کسی موڑ پر جا کر اس کے لئے حج کی ادائیگی متعذر ہو جاتی ہے تو اسے اپنی طرف سے حج بدل کرانے کی وصیت کرنا لازم ہے، تاکہ ان کی طرف سے اس فریضہ کی ادائیگی کی جا سکے،ورنہ وہ سخت گناہ گار ہوں گے ۔
کما فی الفتاوی الھندیۃ: الأصل في هذا الباب أن الإنسان له أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة كان أو صوما أو صدقة أو غيرها كالحج وقراءة القرآن والأذكار وزيارة قبور الأنبياء عليهم الصلاة والسلام والشهداء والأولياء والصالحين وتكفين الموتى وجميع أنواع البر، كذا في غاية السروجي شرح الهداية. (العبادات ثلاثة أنواع): مالية محضة كالزكاة وصدقة الفطر، وبدنية محضة كالصلاة والصوم، ومركبة منهما كالحج. والإنابة تجري في النوع الأول في حالتي الاختيار والاضطرار، ولا تجري في النوع الثاني وتجري في النوع الثالث عند العجز، كذا في الكافي. ولجواز النيابة في الحج شرائط. (منها) : أن يكون المحجوج عنه عاجزاً عن الأداء بنفسه وله مال، فإن كان قادراً على الأداء بنفسه بأن كان صحيح البدن وله مال أو كان فقيراً صحيح البدن لا يجوز حج غيره عنه.(ومنها) استدامة العجز من وقت الإحجاج إلى وقت الموت، هكذا في البدائع. حتى لو أحج عن نفسه وهو مريض يكون مراعى فإن مات أجزأه، وإن تعافى بطل وكذا لو أحج عن نفسه وهو محبوس، كذا في التبيين. فإن أحج الرجل الصحيح عن نفسه رجلاً ثم عجز لم تجزئه الحجة، كذا في السراج الوهاج. وإنما شرط عجز المنوب للحج الفرض لا للنفل، كذا في الكنز. ففي الحج النفل تجوز النيابة حالة القدرة؛ لأن باب النفل أوسع، كذا في السراج الوهاج. (ومنها) الأمر بالحج فلا يجوز حج الغير عنه بغير أمره إلا الوارث يحج عن مورثه بغير أمره فإنه يجزيه، (ومنها) نية المحجوج عنه عند الإحرام، والأفضل أن يقول بلسانه: لبيك عن فلان. (ومنها) أن يكون حج المأمور بمال المحجوج عنه فإن تطوع الحاج عنه بمال نفسه لم يجز عنه حتى يحج بماله، وكذا إذا أوصى أن يحج بماله ومات فتطوع عنه وارثه بمال نفسه، كذا في البدائع الخ(الباب الرابع عشر فی الحج عن الغیر، ج 1، ص 257)۔
وفیھا أیضاً: من علیہ الحج إذا مات قبل أدائہ فإن مات عن غیر وصیۃ یأثم بلا خلاف الخ(الباب الخامس عشر فی الوصیۃ بالحج، ج 1، ص 258، ط: ماجدیۃ)۔