میرے کہنے پر میری سب سے چھوٹی بیٹی نے اپنی شادی پر قرضہ لیا کہ میں جب بھی مکان بیچوں گی، اس کا قرضہ ادا کروں گی، میرے پاس قرض کے علاوہ کوئی دوسرے وسائل نہیں تھے ،نہ میرا بیٹا ہے، نہ شوہر، بس میری چھوٹی بیٹی ہی گھر چلا رہی تھی، اپنی تنخواہ سے اب میری چھوٹی بیٹی نے قرضہ کر کے شادی کر لی ہے،تو میری بڑی بیٹیوں کو اعتراض ہے کہ میں اس کا قرضہ مکان میں نہ لکھوں ،وہ اپنا قرضہ خود اتارے حالانکہ یہ بات قرضہ لینے سے پہلے طے تھی کہ قرضہ اس کا نہیں میرا ہے، فلحال وہ اپنی تنخواہ میں سے تھوڑا تھوڑا کر کے اتاردے، بعد میں اسے مکان بکنے پر وہ قرض دیا جائے گا، اس وقت میری بڑی بیٹیوں نے کوئی اعتراض نہیں کیا ۔اب چھوٹی بیٹی کہ قرض لینے کے بعد اعتراض کر رہی ہیں۔ براہ مہربانی میری رہنمائی فرمائیں کہ مجھے کیا فیصلہ کرنا چاہیے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر مذکور مکان سائلہ کی اپنی ذاتی ملکیت ہو،اور سائلہ کی بیٹی نے سائلہ کے کہنے پر سائلہ کی طرف سے کسی سے قرض لیا ہو،تو چونکہ اس قرض کی ادائیگی سائلہ کے ذمہ لازم ہوگی، لہذا اگر سائلہ کے پاس قرض کی ادائیگی کیلئے فوری انتظام نہ ہو، اور وہ قرض کی ادائیگی کو مکان کی فروختگی کیساتھ معلق کردے، تو شرعاً سائلہ کی بیٹیوں کو اس پر اعتراض کرنے کا حق نہیں۔لیکن اگر مذکور مکان سائلہ اور اس کی بیٹیوں کی مشترک ملکیت ہو،تو اس میں تمام شرکاء کا راضی ہونا ضروری ہوگا، اور اگر تمام شرکاء راضی نہ ہوں، تو مکان فروخت ہونے کے بعد سائلہ اپنے حصہ میں آنے والی رقم سے قرضہ کی ادائیگی کرسکتی ہے، البتہ باقی جو بیٹیوں کا حصہ ہے، وہ بیٹیوں کو ادا کرنا لازم ہوگا۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0