میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ایک ہفتے کے لئے والدین کے گھر آیا ہوں جو میرا ماضی میں مسکن تھا لیکن اب بیوی بچوں کے ساتھ اورکزئ ڈیوٹی کرنے کے لئے شفٹ ہوا ہوں ،5 سال سے اورکزئی میں ہوں مستقبل میں بھی کچھ پتہ نہی کتنا عرصہ رہوں۔ جو ہنگو سے تقریباً 90 کلومیٹر ہے ۔ اب والدین کے گھر پوری نماز پڑھوں یا قصر
واضح رہے کہ سائل اگر اورکزئی کے مقام پر ملازمت کی غرض سے عارضی طور پر رہائش پذیر ہو ، اور اپنے آبائی وطن ہنگو کو چھوڑ کر اورکزئی میں مستقل طور پر رہنے کا ارادہ نہ کیا ہو ، تو ایسی صورت میں سائل اگر چہ ایک ہفتے کیلئے اپنے آبائی وطن آئے تب بھی وہاں پر سائل کو پوری نماز پڑھنا لازم ہوگا ۔
كما في رد المحتار : قوله ( الوطن الأصلي ) ويسمى بالأهلي ووطن الفطرة والقرار، قوله ( أو توطنه ) أي عزم على القرار فيه وعدم الارتحال وإن لم يتأهل فيها الى قوله يتم فيها (باب صلاة المسافر،ج: ٢،ص: ١٣٢،مط: سعيد)
وفي بحر الرائق: والوطن الأصلي هو وطن الإنسان في بلدته أو بلدة أخرى اتخذها دارا وتوطن بها مع أهله وولده وليس من قصده الارتحال عنها بل التعيش بها وهذا الوطن يبطل بمثله لا غير(باب صلاة المسافر،ج:٢،ص:١٣٦،مط: رشيدية)
وفي الهداية : أن الوطن الأصلي يبطل بمثله دون السفر ووطن الإقامة يبطل بمثله وبالسفر وبالأصلي،ألا ترى أنه عليه الصلاة والسلام بعد الهجرة عد نفسه بمكة من المسافرين(باب صلاة المسافر،ج:١،ص: ١٦٨،مط : مجيدية)
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4