اسلام علیکم میرا سوال یہ ہے 2017 میں میرے والد صاحب کے پاس 4000000 تھے انھوں چار سال تک گورمنٹ کی حج کے لیئے کیا تب جس کی مالیت 275 لاکھ سے 3 لاکھ تھی لیکن گور منٹ کی طرف سے میرا ولد صاحب کی درخواست انکار کر دیا گیا تو میں یہ پوچھنا چاہ رہی تھی کہ کیا میرے والد صاحب پر حج فرض ہو گیا ہے تب بھی ان کے پاس پریویٹ حج کی پیسہ نہیں تھی
صورت مسؤلہ میں سائلہ کے والد کے پاس اس وقت موسم حج میں اس قدر مال موجود تھا جس سے وہ حج کی ادائیگی کر سکتے تھے تو ان پر اس وقت حج فرض ہو چکا تھا چنانچہ اس کے بعد ان کا حج درخواستوں میں نام نہ نکلا ہو تو اس سے اگر چہ وہ گنہگار نہ ہوں گے لیکن نام نہ نکلنے کی وجہ سے اس سے فیریضہ حج ساقط نہ ہو گا بلکہ اسباب مہیاہو نے پر انہیں حج ادا کر نا لازم ہو گا لیکن ا گر آخر وقت تک ایسے اسباب مہیا نہیں ہو تے تو ان پر حج بدل کی وصیت کرنا لازم ہو گا چنانچہ پھر اگر ان کے ترکہ میں اس قدر مال موجود ہو کہ ایک تہائی حصہ سےادائیگی کی جاسکتی ہو تو ورثاء پر ایک تہائی کے بقدر مال سے حج بدل کرانا لازم ہو گا اور اگر ترکہ میں اس قدر مال موجود نہ ہو تو ورثاء پر اس وصیت پر عمل کرتے ہوئے حج بدل کرانا اگرچہ لازم نہ ہو گا لیکن وہ کرا دیں تو یہ ان کی طرف سے تبرع اور احسان ہو گا۔
وفی رد المختار والظاہر انہ لوکان حبسہ لمنعہ فقادرا علی ادائہ لایسقط عنہ وجوب الاداء (ج :2 ص : 459 ناشر سعید )
وفیہ ایضا زی زاد وراحلۃ افاد انہ لایجب الا بملک الزاد وملک اجرۃ الراحلۃ فلایجب بالاباحۃ او العاریۃ ( ج :2 ص: 459 ناشر سعید)
وفی فتح القدیر اذا قدروا علی الزاد والراحلۃ فاصلۃ عن المسکن ومالا بد منہ عن نفقۃ عیالہ الی حین عود( ج: 3 ص :323 ناشر رشیدیہ)
وفی مجمع الانھر فمن عجز عن اداء الحج فاحج ای امر بان یحج عنہ غیرہ (ج:1 ص: 308 ناشر دار احیاء الثرات العربی)
وفی غنیۃ الناسک ولو اوصا رجلا ان یحج عنہ او قال احجوا عنی واطلق فلم یعین المال ولاکمیۃ الحج یحج عنہ من ثلث مالہ حجۃ واحدۃ بقدر الکفایۃ (ص : 340 ناشر : ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ)