کیا فرماتے مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں ایک پرائیوٹ ادارے میں کام کر چکا ہوں ( تقریباً دس سال ) ، میں نے اس ادارے کو استعفی دیا تھا، میرے حساب کتاب میں سال کا جو بنتا تھا، اس کے لئے ادارے نے مجھے تقریباً 8 ماہ کا ٹائم دیا، جو کہ بالکل نامناسب تھا،پھر بھی میں 8 ماہ کا انتظار کرنے پر راضی ہو گیا، اور ادارے سے جاتے وقت ادارے کی ایک رقم جو کہ میرے پاس تھی (74,000 روپے) وہ میں ساتھ لے آیا ،اس نیت سے کہ اگر ادارے نے میرے حساب میں کچھ گڑ بڑ کی ، تو میں انہیں سے منہا کروا دوں گا ، اس رقم کا علم ادارے کو نہیں تھا اور رقم میں 20,000 روپے تو ادارے کے تھے باقی 54,000 روپے کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ جب میں اس ادارے میں کام کرتا تھا، تو وہاں سوشل سیکیورٹی جو کہ ایک گورنمنٹ ادارہ ہے ،اور اس ادارے کو ہر ماہ لاکھوں روپے ادارے کی طرف سے فنڈ دیا جاتا ہے، جس کے عوض وہ وہاں کے ملازمین کے لئے سہولیات مہیا کرتی ہے، مثلاً علاج کی فراہمی ، بچوں کے اسکول کی کتابیں ، بیگ ، جوتے اور خواتین کے لئے جہیز فنڈ وغیرہ وغیرہ، اس ادارے کی طرف سے ایک مرتبہ خواتین کے جہیز کے فارم تقسیم کیے گئے اور ایک عورت نے اپنے آپ کو (سوشل سیکورٹی) کو غیر شادی شدہ بتا کر یعنی جھوٹ لکھ کر ادارے سے ۵۴۰۰۰ ر وپے نکلوا لیے، جب ہم کو پتہ چلا کہ یہ رقم اس عورت نے غلط طریقے سے نکلوائی ہے ، تو ہم نے اس سے یہ رقم لے کر اپنے پاس رکھ لی، اور ایک عرصے تک یہ رقم میرے پاس رہی، اور اس طرح (54,000) روپے اور ادارے کے اپنے 20,00 روپے جو کہ ملا کر 74,000 روپے بنتے ہیں، میں ساتھ لے گیا تھا ،یہ اس 74,000 کی تفصیل تھی۔
دوسری طرف میری آٹھ ماہ کی تاریخ گزر گئی، مگر ادارےنے مجھے میرا حساب نہیں دیا، میں اس کے بعد کافی عرصے تک درخواست کرتا رہا ،ایک مرتبہ ڈائریکٹ ادارے کے مالک سے فون پر بھی درخواست کی، مگر میرا حساب نہیں ملا، یہ بات یاد رہےکہ ادارہ اس طرح پہلے تاخیر نہیں کرتا تھا ،کچھ عرصے سے بینک کو بھاری سود کی رقم اور نقصان کی وجہ سے ملازمین کے حساب میں تاخیر ہوتی رہی، بہر حال ایک دن کسی آڈیٹر سے شکایت کرنے پر میرا حساب مجھے مل گیا، جو کہ 3,50,000 روپے کے قریب تھا،مجھے خیال آیا کہ میں جو 000 74 ہزار روپے پہلے اس ادارے سے لے آیا تھا ، اب اس کو واپس کرنا چاہیئے ، میں نے 74,000 کا چیک اس دن بنا کر ادارے کے مالک کو پہنچا دیا،اس نے غصے کی وجہ سے وہ چیک پھاڑ دیا اور کہا کہ ’’اسی کو دے‘‘یہ پیسے مجھے نہیں چاہیئے ۔
اُن کے اس طرح کہنے سے کیا میں ان پیسوں کا مالک بن گیا؟ جبکہ ان 74,000 میں 20,000 ادارے کے تھے ،باقی تو اُس عورت نے سوشل سیکورٹی سے غلط طریقے سے نکلوائے تھے ، اس کے بعد جب میں نے دیکھا کہ ادارے کے مالک یہ پیسے نہیں لے رہے ،تو میں یہ پیسے ایک لڑکے کو جو کہ میرا جاننے والا تھا، اور میری طرح اس ادارے میں کام کر کے چھوڑ چکا تھا اور اپنے حساب کا وہ بھی انتظار کر رہا تھا، اور اُس کا حساب 80,000 کے قریب بنتا تھا اُس کو دے دیے ، کیا یہ میں نے صحیح کیا ؟ اور اس لڑکے کے لئے یہ پیسے جائز ہیں ؟ ادارے کے مالک کو جب یہ بات پتہ چلی تو اس نے کہا کہ نہیں اُس لڑکے کو پیسے ادارہ خود ہی دے گا۔ لیکن آج تقریباً اس بات کو تین ماہ گزر گئے، ابھی تک اس لڑکے کو ادارے نے پیسے نہیں دیے ، اب میں کیا کروں ؟ کیا اس لڑکے سے پیسے لے کر ادارے کو واپس کروں ؟ یا پھر سوشل سیکیورٹی کے ادارے کو واپس کروں ؟ یا پھر میں خود رکھ لوں ؟ کیا میرے اوپر یہ رقم واجب الادا ہے ؟
سوال میں مذکور رقوم میں سے چون ہزار(۵۴۰۰۰) روپے جو سوشل سیکورٹی سے غلط بیانی کے ذریعہ وصول کیے گئے، وہ لیکر اس ادارہ کے فنڈ میں رسید کٹوا کر جمع کروانا لازم ہے، جبکہ بقیہ بیس ہزار روپے کی رقم جو سائل نے مذکور ملازم کو دیے ،وہ اصلاً کمپنی کا حق تھا، تاہم اگر وہ اپنے واجب الوصول رقم میں سے اسے شمار کر کے منہا کرے، اور کمپنی سے دوبارہ وصول نہ کرے ،تو امید ہے عند الله سبکدوش ہو جائے ۔
ففي حاشية ابن عابدين (رد المحتار): ومن مسائل المقاصة ما لو كان للمودع على صاحب الوديعة دين من جنسها لم تصر قصاصا به إلا إذا اتفقا عليه وكانت في يده أو رجع إلى أهله فأخذها والمغصوب كالوديعة، وكذلك لا تقع المقاصة ما لم يتقاصا لو كان الدينان من جنسين أو متفاوتين في الوصف، أو مؤجلين أو أحدهما حالا والآخر مؤجلا أو أحدها غلة والآخر صحيحا كما في الذخيرة. وإذا اختلف الجنس وتقاصا كما لو كان له عليه مائة درهم وللمديون مائة دينار عليه فإذا تقاصا تصير الدراهم قصاصا بمائة من قيمة الدنانير ويبقى لصاحب الدنانير على صاحب الدراهم ما بقي منها ظهيرية ودين النفقة للزوجة لا يقع قصاصا بدين للزوج عليها إلا بالتراضي، بخلاف سائر الديون؛ لأن دين النفقة أدنى، فروق الكرابيسي اهـ ملخصا اھ (5/ 266)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0