ہمارے علاقے میں زمین کی تقسیم 1984 میں ہوئی تھی۔ تقسیم کے بعد ایک خاندان کے فرد نے زمین بیچ دی، جس کی رسید موجود ہے اور وہ اس بات کو تسلیم بھی کرتا ہے۔ اب وہ فرد اپنے دوسرے بھائی کو اس فروخت شدہ زمین میں سے اس کا حصہ دینا چاہتا ہے، تو اس کی تقسیم کی کیا صورت ہوگی؟ اب جس زمانے میں زمین فروخت ہوئی تھی، اُس زمانے کے حساب سے پیسے دے گا؟یا آج کے زمانے کے حساب سے پیسے دے گا؟یا فروخت شدہ زمین پر جو کاروبار شروع کیا گیا ہے، اس میں سے حصہ دے گا؟ ان سوالوں کے جواب اسلامی فقہ، قرآن اور حدیث کی روشنی میں، مستند حوالوں کے ساتھ درکار ہیں۔
صورتِ مسؤلہ میں زمین کی تقسیم کے بعد اگر مذکور شخص نے دیگر شرکاء(بھائیوں وغیرہ) کی اجازت سے یہ پوری زمین بیچی تھی تو دیگر شرکاء (بھائیوں وغیرہ) کے حصہ میں بھی اس زمین کی بیع درست ہوچکی تھی۔ تاہم اب اگر مذکور شخص دیگر شرکاء (بھائیوں وغیرہ) کو حصہ دینا چاہے تو جس وقت مذکور زمین بیچی تھی تو اس وقت مذکور زمین کی جتنی قیمت تھی اس کے حساب سے بھائیوں وغیرہ کو ان کا حصہ دے گا۔ اگر مذکور شخص نے زمین دیگر شرکاء (بھائیوں وغیرہ) کی اجازت کے بغیر بیچ دی تھی تو اس کا یہ فعل شرعاً ناجائز تھا، تاہم اس صورت میں دیگر شرکاء کے حصہ کی بیع ان کی اجازت و رضامندی پر موقوف ہے، اگر وہ اجازت دے دیں تو فروخت درست ہوگی ، اور اس صورت میں بھی جس وقت یہ زمین بیچی گئی تھی تو مذکور شخص پر اس وقت کے حساب سے شرکاء کو ان کے حصوں کے بقدر رقم دینا لازم ہوگی۔
کما فی الھدایۃ: قال: ومن باع ملک غیرہ بغیر أمرہ فالمالک بالخیار إن شاء أجاز البیع و إن شاء فسخ إلخ (کتاب البیوع، فصل في بیع الفضولي: ج 3، ص 90، ط:امیر حمزہ کتب خانہ)۔
وفی فقہ البیوع: و إن لم یجز من لہ الإجازۃ البیع، فالبیع باطل إلخ (الباب الثامن تقسیم البیع، المبحث الخامس: في البیع الموقوف ، ج 2، ص 945، ط:معارف القرآن)۔
وفی الدر المختار: ولو كانت الدار مشتركة بينھما، باع أحدهما بيتا معينا أو نصيبه من بيت معين، فللآخر أن يبطل البيع إلخ (کتاب الشرکۃ، ج 4، ص 302، ط: سعید)۔
وفی بدائع الصنائع:فأما شركة الأملاك، فحكمھا في النوعين جميعا واحد، و هو أن كل واحد من الشريكين كأنه أجنبی فی نصيب صاحبه،لا يجوز له التصرف فيه بغير إذنه؛ لأن المطلق للتصرف الملك أو الولاية، و لا لكل واحد منھما فی نصيب صاحبه ولاية بالوكالة أو القرابة؛ و لم يوجد شیئ من ذلك، وسواء كانت الشركة فی العين أو الدين لما قلنا إلخ (کتاب الشرکۃ،ج 6، ص 65، ط:سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2