کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیان ِعظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسمٰی عبد الحمید کا بھائی تھا نور محمد ، ان کا انتقال 2015 ء میں ہوا ہے ، نور محمد کا ایک گھر تھا ،اس کی کوئی اولاد نہیں تھی، صرف ایک متبنی بیٹا ہے، نور محمد پر میرا 40000 کا قرض بھی تھا، اور اب بیوہ کہہ رہی ہے کہ نور محمد پر میں حق مہر کا قرض بھی باقی ہے، اور نور محمد نے اپنی بیوہ کا ایک عدد پلاٹ مہر والا بیچ کر یہ مکان بنایا تھا، جو پلاٹ مہر والا بیچا تھا مبلغ ۷۰۰۰۰ میں اور وہ رقم موجودہ مکان پر لگائی گئی تھی، اور باقی خر چہ اس نے اپنے مال سے کیا تھا، اب چونکہ بیوہ نے دوسری شادی بھی کرنی ہے، اور وہ دعوی کرتی ہے کہ موجودہ مکان سارا میرا ہے، اور موجودہ مکان کی قیمت تقریباً 5 سے 6 لاکھ روپے ہے ، اور نور محمد کے ورثاء میں اس کے بھائی ( خلیل الرحمٰن ، داود ، عبد المنان، عبد الحمید ) ماں باپ دونوں کی طرف سے اور تین بھائی دوسری والدہ کی طرف سے بھی ہیں، اسی طرح مرحوم نور محمد کا جو حصہ والد صاحب کی طرف سے ملے گا یا آئیگا، تو اس میں بھی بیوہ کا حصہ ہو گا یا نہیں ؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں مسئلہ کی وضاحت فرمائیں؟
(نوٹ) مرحوم کے والدین مرحوم کی زندگی میں انتقال کر چکے ہیں۔
سائل مسمی عبد الحمید کے پاس مذکور قرض کے متعلق اگر کوئی ثبوت ہو، یا ثبوت تو نہ ہو لیکن مرحوم مسمیٰ نور محمد کے تمام ورثاء کو اس کا علم ہو، اور انہیں اس کے متعلق کوئی انکار نہ ہو تو مرحوم کا ترکہ تقسیم کرنے قبل چالیس ہزار روپے قرض کی رقم سائل وصول کر سکتا ہے، اسی طرح مرحوم نے اپنی بیوہ کا جو پلاٹ فروخت کر کے اس سے حاصل شدہ رقم ( ستر ہزار روپے) مکان کی تعمیر پر لگائی تھی ،وہ بھی مرحوم کے ذمہ اس کی بیوہ کا قرضہ ہے ، جو کہ میراث تقسیم کرنے سے قبل بیوہ کو ادا کیا جائے گا، اس کے بعد مرحوم مسمی نور محمد کی ذاتی ملکیت میں جو کچھ بچے گا اور جو کچھ اسے والد مرحوم کے ترکہ سے ہے، وہ سارا کا سارا بیوہ سمیت مرحوم کے تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہو گا، لیکن مرحوم کی بیوہ کا پوری جائیداد پر اپنی ملکیت کادعویٰ کرنا شرعا درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے، جبکہ سائل کے علاتی( باپ شریک ) بھائی اور لے پالک بیٹا مر حوم کی وراثت میں حصہ دار نہ ہونگے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے بھائی نور محمد مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہو گا، کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد سونا، چاندی، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد مرحوم کے ذمہ کچھ قرض اور بیوہ کا حق مہر واجب الادا ہے تو وہ ادا کر یں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل سولہ (16) حصے بنائے جائیں، جس سے میں مرحوم کے بیوہ کو چار (4) حصے ، اور مرحوم کے سگے بھائیوں (خلیل الرحمن ، داود ، عبد المنان اور عبد الحمید ) میں سے ہر ایک کو تین (3) حصے دیے جائیں۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2