بخدمت جناب مفتی صاحب! جامعہ بنوریہ العالمیہ نزد سائٹ تھا نہ کراچی جناب اعلی السلام علیکم!
گزارش عرض یہ ہے کہ میں مسمی ۔۔۔ ساکن مکان نمبر ۔۔۔، بلاک۔۔۔ گلی نمبر ۔۔ سیکٹر۔۔۔ گلشن بہار ، اورنگی ٹاؤن ، کراچی کا رہائشی ہوں ۔ جناب میرے 5 بیٹے اور 4 بیٹیاں ہیں، جن میں سے 2 بیٹیوں کی شادی ہو چکی ہے ،اور دو بیٹیاں کنواری ہیں، اور 5 بیٹے سب چھوٹے چھوٹے ہیں ۔ جناب مسئلہ یہ ہے کہ میری بیوی آئے دن مجھ سے لڑائی جھگڑے کرتی ہیں ۔ اور میری بیوی میرے بچوں کے ساتھ ملکر مجھ پر تشدد کرتی ہے اور گالم گلوچ کرتی ہے۔ جناب میری بیوی ، مجھ سے ایک مرتبہ پہلے بھی تین طلاق لے چکی ہے اور پھر حلالہ کروانے کے بعد دوبارہ میرے نکاح میں آگئی تھی۔ اس کا حق مہر بھی میں نے پہلے ادا کر دیا تھا ،لیکن اب ایک بار پھر مسلسل اس کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ میں اسے طلاق دیدوں اور میرے مکان میں ہی وہ میرے بچوں کے ساتھ رہائش کرے۔ جناب میں روز روز کی لڑائی سے تنگ آ گیا ہوں میرے بچے آئے دن مجھ پر تشدد کرتے ہیں ، اور میرے گھر کا سامان کھڑکی دروازہ فرش وغیرہ توڑتے ہیں ۔ اس وجہ سے میں بہت پریشان ہوں۔ میری بیوی میرے مکان پر قبضہ کر کے مجھے بے دخل کرنا چاہتی ہے۔ جناب میں اپنا مکان فروخت کر کے بچوں میں رقم تقسیم کرنا چاہتا ہوں ۔ آپ سے التماس ہے کہ قرآن وسنت کی روشنی میں مجھے بتایا جائے کہ میری جائیداد میں کس کا کتنا حصہ شریعت نے مقرر کیا ہے۔ تاکہ میں شرعی طریقے سے اپنی جائیداد تقسیم کر سکوں اور اس میں میرا کتنا حصہ ہوگا ۔ اور میری بیوی کا کتنا حصہ بنے گا؟
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو تو سائل کی بیوی اور بچوں کا مذکور طرزِ عمل شرعا واخلاقاً انتہائی غلط ہے، جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہو رہے ہیں، جبکہ بغیر کسی معقول وجہ کے اپنے شوہر سے طلاق کے مطالبہ پر احادیث مبارکہ میں سخت قسم کی وعیدیں وارد ہوئی ہیں، اس لیے سائل کی بیوی اور اس کے بیٹوں پر لازم ہے کہ اپنے مذکور نازیبا رویہ سے باز آئیں ور نہ مواخذه دنیوی و اخروی سے سبکدوشی نہ ہو سکے گی۔
اس کے بعد واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاء ہونے سے پہلے اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے ، وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کر سکتا ہے ، اس پر اپنی حیات میں اس کی تقسیم لازم بھی نہیں اور نہ اولاد کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے والد کی زندگی میں اس کی جائیداد میں حصہ داری کا دعوی کر کے تقسیم کا مطالبہ کرے۔ تاہم اگر سائل اپنی صحت والی زندگی میں بغیر کسی جبر واکراہ کے محض اپنی مرضی سے اپنا مال و جائیداد و غیرہ اپنے متعلقین میں تقسیم کرنا چاہے تو شرعا یہ بھی جائز ہے اور یہ تقسیم ترکہ نہیں ، بلکہ یہ ہبہ اور گفٹ کہلاتا ہے ، جس کا بہتر اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ وہ ایک محتاط اندازے کے موافق اپنے علاج اور بقیہ زندگی کے لیے جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر اور اپنی بیوی کو جو کچھ دینا چاہیے وہ دیکر بقیہ مال و جائیداد اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کر کے ہر فرد کو اس کے حصے پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے تا کہ وہ شرعا بھی اس کا مالک بن جائے ، محض کاغذوں میں نام کر دینا کافی نہیں ، پھر بہتر یہ ہے کہ اس ہبہ اور گفٹ میں سب کو برابر اور یکساں رکھے ، کسی کو کم کسی کو زیادہ نہ دے، البتہ کسی کی خدمت گزاری ، محتاجی یا دین داری و غیرہ کی بناء پر اسے دوسرے ورثاء کے مقابلے میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو اس کا اسے اختیار ہے مگر بلاوجہ شرعی کسی وارث کو زیادہ دینا یا اپنی جائیداد سے بالکل محروم کرنا گناہ ہے۔
قال الله تعالى : {وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا (23) وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا } [الإسراء: 23، 24]
ترجمہ: اور تیرے رب نے حکم دیا ہے کہ بجز اس کے کسی کی عبادت مت کرو، اور تم (اپنے) ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کیا کرو، اگر تیرے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جاویں ہو ان کو کبھی (ہاں سے) ہوں کبھی مت کرنا اور نہ ان کو جھڑکنا ، اور ان سے خوب ادب سے بات کرنا ، اور ان کے سامنے شفقت سے، انکساری کے ساتھ جھکے رہنا اور یوں دعا کرتے رہنا کہ اے پروردگار ان دونوں پر رحمت فرمائیں جیسا کہ انہوں نے مجھ کو بچپن میں پالا پرورش کیا ہے۔ ( از بیان القرآن )
و في مشكاة المصابيح: وعن أبي بكرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «كل الذنوب يغفر الله منها ما شاء إلا عقوق الوالدين فإنه يعجل لصاحبه في الحياة قبل الممات» (3/ 1383)
ترجمہ : رسول کریم ﷺ نے فرمایا : شرک کے علاوہ تمام گناہ ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان میں سے جس قدر چاہتا ہے بخش دیتا ہے ، مگر والدین کی نافرمانی کے گناہ کو نہیں بخشتا، بلکہ اللہ تعالی ماں باپ کی نافرمانی کرنے والے کو موت سے پہلے اس کی زندگی میں جلد ہی سزا دے دیتا ہے۔ ( مظاہر حق ، 4 / 487، ط قدیمی )۔ واللہ اعلم بالصواب۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2