احکام وراثت

میت کی متروکہ امانت کا حکم

فتوی نمبر :
85119
| تاریخ :
معاملات / ترکات / احکام وراثت

میت کی متروکہ امانت کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درجِ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میرے ماموں کی ذاتی رقم کے بارے میں پوچھنا ہے کہ جو وہ انتقال سے پہلے میرے پاس چھوڑ گئے تھے، جو گاؤں میں زمینوں کی رقم ہے، میرے پاس وہ رقم امانۃً موجود ہے، جس کے بارے میں ماموں نے کوئی تحریری وصیت یا قولی وصیت بھی نہیں کی ،اور اس رقم کی مقدار دولاکھ ، ساٹھ ہزار سات سو اسی (۲۶۰۷۸۰)ہے۔
میرے ماموں غیر شادی شدہ تھے ، ان کے ورثاء میں تین بھائی (سلیم، فضل علی اور اکبر شہزاد) اور تین بہنیں ( شاہی بیگم ، راحت اور تاج بیگم تھیں، جبکہ والدین اور ایک بہن ( شاہی بیگم ) کا انتقال ماموں کی زندگی میں ہی ہو گیا تھا، ایک بہن ( راحت ) کا انتقال ماموں کے انتقال کے کچھ عرصہ بعد ہوا ہے ،اور ایک بہن (تاج بیگم ) تا حال حیات ہے، جس بہن کا ماموں کی زندگی میں انتقال ہوا تھا، اس کی اولاد میں چار لڑکے اور دو لڑ کیاں ہیں، اور جس بہن کا ماموں کے انتقال کے بعد انتقال ہوا ہے، اس کی ایک بیٹی اور شوہر حیات ہے، اور جو بہن تا حال حیات ہے ، اس کا ایک بیٹا ہے، باقی جو بھائی ان کے ہیں، اس میں سے دو شادی شدہ بھی ہیں اور صاحبِ اولاد بھی ہیں، ایک بھائی غلط لائن پر گامزن رہا ہے ، جو اس وقت جیل میں ہے اور اپنے کیے کی سزا کاٹ رہا ہے ، اب مسئلہ یہ ہے کہ اس رقم کی تقسیم کیسے ہوگی؟ اور کیا یہ رقم اس مجرم بھائی کو بھی دی جائے گی ؟ رقم کی مکمل شفاف تقسیم پر مدلّل جواب عنایت فرمادیں اور مجرم کے حق کا بھی ضرور لکھ دیں جواب میں، تاکہ شرعی رو سے مکمل انصاف پسندانہ فیصلہ ہو سکے اور اس مختص شخص کے پاس جور قم موجود ہے ، اس پر تمام متفق ہو سکیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور رقم بھی سائل کے مرحوم ماموں کی دیگر اشیاء کی طرح ان کا ترکہ ہے ،جو ان کے شرعی ورثاء میں حعسب حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا، جس میں مرحوم کا وہ بھائی بھی اپنے حصے کے بقدر حقدار ہو گا جو جرائم میں ملوث ہے،البتہ اگر اس کا حصہ حوالہ کرنے میں اس بات کا اندیشہ ہو کہ وہ اسے جرائم یا فضولیات وغیرہ میں خرچ کرے گا تو اسے اس کا حصہ حوالہ نہ کیا جائے، بلکہ اس کے کسی سر پرست ( بڑے بھائی وغیرہ) کے حوالہ کیا جائے اور وہ اس کے کھانے پینے، علاج و معالجہ وغیرہ ضروری مصارف میں خرچ کرتار ہے، لیکن اس کے حصہ میں سائل کے ماموں کے لئے کچھ لیکر اپنے استعمال میں لانا قطعاً جائز نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے، جبکہ جس بہن ( شاہی بیگم ) کا انتقال مرحوم کی حیات میں ہو گیا تھا، اس کا یا اس کی اولاد کا مر حوم کے ترکہ میں شرعا کوئی حصہ نہیں، البتہ اگر ورثاء اپنی دلی رضامندی سے اپنے حصص میں کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار حاصل ہے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے مرحوم ماموں کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق ان کے موجود ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال مذکور رقم سمیت اپنی ذاتی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا چاندی، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا گھر یلو ساز و سامان چھوڑا ہے ، وہ مرحوم کا ترکہ ہے ، جس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں۔ اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں۔ اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں۔ اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل دو سوچوبیس(224) حصے بنائیں، اور تینوں بھائیوں (سلیم، فضل علی اور اکبر شہزاد) میں سے ہر ایک کو اٹھاون (58) حصے اور زندہ بہن (تاج بیگم ) کوانتیس (29) حصے ، مرحوم کے بہنوئی ( راحت کے شوہر ) کو سات (7) حصے اور مرحوم کی بھانجی (راحت کی بیٹی کو چودہ (14) حصے دیدیں۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 85119کی تصدیق کریں
0     402
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء =بیوہ, 2 بھائی 1 بہن)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • زندگی میں تقیسم جائیداد کا حکم اور طریقہ

    یونیکوڈ   انگلش   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء =ایک بیوہ تین بیٹے دو بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات