کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درجِ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میرے ماموں کی ذاتی رقم کے بارے میں پوچھنا ہے کہ جو وہ انتقال سے پہلے میرے پاس چھوڑ گئے تھے، جو گاؤں میں زمینوں کی رقم ہے، میرے پاس وہ رقم امانۃً موجود ہے، جس کے بارے میں ماموں نے کوئی تحریری وصیت یا قولی وصیت بھی نہیں کی ،اور اس رقم کی مقدار دولاکھ ، ساٹھ ہزار سات سو اسی (۲۶۰۷۸۰)ہے۔
میرے ماموں غیر شادی شدہ تھے ، ان کے ورثاء میں تین بھائی (سلیم، فضل علی اور اکبر شہزاد) اور تین بہنیں ( شاہی بیگم ، راحت اور تاج بیگم تھیں، جبکہ والدین اور ایک بہن ( شاہی بیگم ) کا انتقال ماموں کی زندگی میں ہی ہو گیا تھا، ایک بہن ( راحت ) کا انتقال ماموں کے انتقال کے کچھ عرصہ بعد ہوا ہے ،اور ایک بہن (تاج بیگم ) تا حال حیات ہے، جس بہن کا ماموں کی زندگی میں انتقال ہوا تھا، اس کی اولاد میں چار لڑکے اور دو لڑ کیاں ہیں، اور جس بہن کا ماموں کے انتقال کے بعد انتقال ہوا ہے، اس کی ایک بیٹی اور شوہر حیات ہے، اور جو بہن تا حال حیات ہے ، اس کا ایک بیٹا ہے، باقی جو بھائی ان کے ہیں، اس میں سے دو شادی شدہ بھی ہیں اور صاحبِ اولاد بھی ہیں، ایک بھائی غلط لائن پر گامزن رہا ہے ، جو اس وقت جیل میں ہے اور اپنے کیے کی سزا کاٹ رہا ہے ، اب مسئلہ یہ ہے کہ اس رقم کی تقسیم کیسے ہوگی؟ اور کیا یہ رقم اس مجرم بھائی کو بھی دی جائے گی ؟ رقم کی مکمل شفاف تقسیم پر مدلّل جواب عنایت فرمادیں اور مجرم کے حق کا بھی ضرور لکھ دیں جواب میں، تاکہ شرعی رو سے مکمل انصاف پسندانہ فیصلہ ہو سکے اور اس مختص شخص کے پاس جور قم موجود ہے ، اس پر تمام متفق ہو سکیں۔
مذکور رقم بھی سائل کے مرحوم ماموں کی دیگر اشیاء کی طرح ان کا ترکہ ہے ،جو ان کے شرعی ورثاء میں حعسب حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا، جس میں مرحوم کا وہ بھائی بھی اپنے حصے کے بقدر حقدار ہو گا جو جرائم میں ملوث ہے،البتہ اگر اس کا حصہ حوالہ کرنے میں اس بات کا اندیشہ ہو کہ وہ اسے جرائم یا فضولیات وغیرہ میں خرچ کرے گا تو اسے اس کا حصہ حوالہ نہ کیا جائے، بلکہ اس کے کسی سر پرست ( بڑے بھائی وغیرہ) کے حوالہ کیا جائے اور وہ اس کے کھانے پینے، علاج و معالجہ وغیرہ ضروری مصارف میں خرچ کرتار ہے، لیکن اس کے حصہ میں سائل کے ماموں کے لئے کچھ لیکر اپنے استعمال میں لانا قطعاً جائز نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے، جبکہ جس بہن ( شاہی بیگم ) کا انتقال مرحوم کی حیات میں ہو گیا تھا، اس کا یا اس کی اولاد کا مر حوم کے ترکہ میں شرعا کوئی حصہ نہیں، البتہ اگر ورثاء اپنی دلی رضامندی سے اپنے حصص میں کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار حاصل ہے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے مرحوم ماموں کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق ان کے موجود ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال مذکور رقم سمیت اپنی ذاتی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا چاندی، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا گھر یلو ساز و سامان چھوڑا ہے ، وہ مرحوم کا ترکہ ہے ، جس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں۔ اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں۔ اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں۔ اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل دو سوچوبیس(224) حصے بنائیں، اور تینوں بھائیوں (سلیم، فضل علی اور اکبر شہزاد) میں سے ہر ایک کو اٹھاون (58) حصے اور زندہ بہن (تاج بیگم ) کوانتیس (29) حصے ، مرحوم کے بہنوئی ( راحت کے شوہر ) کو سات (7) حصے اور مرحوم کی بھانجی (راحت کی بیٹی کو چودہ (14) حصے دیدیں۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2