کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درجِ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ خاتون نے فیس بک پر ایک پوسٹ شیئر کی ، جس میں ذکر تھا کہ "حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ جو شخص حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو قتل کرےگا، وہ جہنم والوں میں سے ہو گا " اس کے تحت لکھا کہ حضرت امیر معاویہ نے انہیں قتل کیا، مذکور خاتون کا گھرانہ کافی عرصہ پہلے ایک شیعہ پیر صاحب کی آمد پر چند افراد کو چھوڑ کر شیعہ ہو گیا تھا، جبکہ خاتون پہلے شوہر سے بیوہ ہونے کے بعد ، دوسری جگہ سے رشتہ آنے اور لڑکے والوں کی طرف سے سنی ہونے کی شرط پر سنی ہو گئی تھی، اب بھی اپنے سنی ہونے کا اقرار کرتی ہے ، نکاح کی تقریب بھی سنی عقیدہ کے مطابق کی گئی، اور نکاح خواں بھی سنی ہی تھا، اس کی جانب سے یہ شئیر کردہ پوسٹ جب اس کے شوہر نے دیکھی ، جو کہ سنی گھرانے سے تعلق رکھتا ہے ، تو انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ سنی عقیدہ کی روسے تو وہ اس فعل سے اسلام سے خارج ہو جاتی ہے ، تو اس نے بغیر کسی ندامت کے اظہار کے جواباً کہا کہ ان (امیر معاویہ ) کے دور میں سترہ سال تک منبرِ رسول سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں دی جاتی رہیں کیا وہ معاملہ درست تتھا ؟اس کے بعد شوہر نے اس سے علیحدگی اختیار کر لی اس بنیاد پر کہ مذکور باتوں سے وہ اسلام سے خارج ہو کر مجھ پر حرام ہو گئی ہے، لہذا اب سوال یہ ہے کہ مذکور پوسٹ شئیر کرنے اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں، اس طرح عقیدہ رکھنے سے خاتون اسلام سے خارج ہو کر شوہر کے نکاح سے نکل گئی ہے کہ نہیں ؟
نوٹ: مذکور خاتون امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو صحابی رسول نہیں مانتی ، باقی خلفاء کے بارے میں درست عقیدہ رکھتی ہے ۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ صرف صحابیِ رسول ہی نہیں ، کاتبِ وحی اور حضور ﷺ کی زوجہ مطہّرہ ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بھائی بھی تھے ، ان کی صحابیت کا انکار، اور بلا تحقیق سنی سنائی باتوں پر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو حضرت عمار رضی اللہ عنہ کا قاتل قرار دینا اور یہ کہنا کہ سترہ سال تک وہ منبرِ رسول سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں دیتے رہے ، جہالت اور ناواقفیت پر مبنی ہونے کے علاوہ دشمنانِ صحابہ کے پروپیگنڈہ کا اثر ہے ، تفصیل کے لئے حضرت معاویہ اور تاریخی حقائق (از مفتی محمد تقی عثمانی) ملاحظہ ہو :
جہاں تک خاتون کی طرف سے سوال میں مذکور پوسٹ کا تعلق ہے ، اس کا بھی کتبِ حدیث و تاریخ میں کوئی ثبوت نہیں ، بلا تحقیق کسی صحابیِ رسول کے بارے میں اس قسم کی باتیں پھیلانا بہت سخت گناہ اور فسق و فجور کی بات ہے ، جس پر تو بہ و استغفار لازم ہے، مگر اس سے وہ کافر نہیں ہوئی ۔
كما في مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: وعن عبد الله بن مغفل - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: ( «الله الله في أصحابي، الله الله في أصحابي، لا تتخذوهم غرضا من بعدي، فمن أحبهم فبحبي أحبهم، ومن أبغضهم فببغضي أبغضهم، ومن آذاهم فقد آذاني، ومن آذاني فقد آذى الله، ومن آذى الله فيوشك أن يأخذه» ) . رواه الترمذي اھ (9/ 3880)۔
وفيها ايضا: (الله الله) : بالنصب فيهما، أي: أتقوا الله ثم اتقوا الله (في أصحابي) ، أي: في حقهم، والمعنى لا تنقصوا من حقهم ولا تسبوهم، (إلی قوله) (ومن آذاني فقد آذى الله) ، ونظيره: من يطع الرسول فقد أطاع الله. (ومن آذى الله فيوشك أن يأخذه) ، أي: يعاقبه في الدنيا أو في الأخرى اھ (9/ 3880)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار):(قوله لكن في النهر إلخ)على أن الحكم عليه بالكفر مشكل، لما في الاختيار اتفق الأئمة على تضليل أهل البدع أجمع وتخطئتهم وسب أحد من الصحابة وبغضه لا يكون كفرا، لكن يضلل إلخ. (الى قوله) نعم يقع في كلام أهل المذهب تكفير كثير ولكن ليس من كلام الفقهاء الذين هم المجتهدون بل من غيرهم، ولا عبرة بغير الفقهاء، والمنقول عن المجتهدين ما ذكرنا اھ (4/ 237)۔
و في البداية والنهاية: قال: لما جاء خبر قتل علي إلى معاوية جعل يبكي، فقالت له امرأته: أتبكيه وقد قاتلته؟ فقال: ويحك إنك لا تدرين ما فقد الناس من الفضل والفقه والعلم اھ (8/ 130)۔
و في تاريخ بن خلدون: ولن يأتيكم بعدى الا من أنا خير منه كما أن من كان قبلی خیر منی اھ (۳/۱۸)۔
و في تاريخ الطبري = تاريخ الرسل والملوك، وصلة تاريخ الطبري: قال أحمد: قال علي: عن جويرية بن أسماء، أن بسر بن أبي أرطاة نال من علي عند معاوية وزيد بن عمر بن الخطاب جالس، فعلاه بعصا فشجه، فقال معاوية لزيد: عمدت إلى شيخ من قريش سيد أهل الشام فضربته! وأقبل على بسر فقال: تشتم عليا وهو جده اھ (5/ 335)۔
حضرت تھانویؒ، حضرت گنگوہی اور حاجی امداد اللہ صاحبؒ کو بریلوی کہہ کر ان کی کتابیں پڑھنے سے منع کرنا
یونیکوڈ اکابر حضرات" 1