کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ شریعت میں ایک والد کے لئے اپنی اولاد میں عدل کے حوالے سے کیا احکامات ہیں ؟ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے والد مجھے لیکر آپ صلی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا اے اللہ کے رسول میں نے اس لڑکے کو ایک غلام بخش دیا ہے آپ ﷺ نے پو چھا کیا تو نے سب لڑکوں کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کیا ہے ؟ انھوں کہا نہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد میں برابری اور مساوات کا معاملہ کرو، ہم پانچ بھائی ہیں جو سب سے بڑا بھائی ہے اس نے والد کی جگہ پر دو منزلہ بلڈ نگ بنائی ہے اپنے پیسوں سے، والد صاحب کے دو پلاٹ ہیں ایک 120 گز اور دوسرا تقریباً 100 گز ہے 100 گز کے مکان پر ایک چھت والد صاحب نے ڈالی اور باقی بڑے بھائی نے خرچہ کیا، اسی عمارت میں دو کمرے میرے چھوٹے بھائیوں کے پاس ہیں ، جن میں سے ایک اسلام آباد میں ہوتا ہے ، جبکہ دوسرے بھائی کی دو سال قبل شادی ہوئی تھی اور دوسرا پلاٹ جو 120 گز کا ہے اس میں میرے والد صاحب اور ایک بھائی رہتا ہے ، اس بھائی کے پاس تقریباً دو کمرہ کی جگہ میں اس بھائی سے ایک تنازعہ کی وجہ سے کرایہ کے مکان میں رہتا ہوں، میں نے والد صاحب سے کہا ہے مجھے بھی دو کمرے بنانے کی اجازت دیں دونوں میں سے کسی بھی پلاٹ پر اس لیے کہ ایک بھائی کے پاس تو دو منزلہ عمارت کی آپ نے اجازت دی ہے ، مگر میرے والد صاحب کا کہنا ہے کہ یہ میری میراث ہے ، جس کو چاہوں جتنا دوں اور جس کو نہ چاہوں نہ دوں ، اور شریعت بھی یہی کہتی ہے، ان کا کہناہی کہ اگر یہ غلط ہے تو کسی مفتی سے فتوی لے آو۔
برائے مہربانی اس بارے میں ہماری اصلاح فرمادیجئے کیا یہ صحیح ہے یا غلط؟
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاء ہونے سے پہلے اپنی تمام جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے ، وہ اپنی جائیداد میں جس طرح چاہے تصرف کر سکتا ہے ، اس پر اپنی زندگی میں جائیداد اپنے بیوی بچوں پر تقسیم کرنا بھی لازم نہیں، اور نہ ہی کسی بیٹے بیٹی کا اس کی زندگی میں اس کی جائیداد میں حصہ داری یا حق کا دعوی درست ہے، البتہ سائل کا والد اپنی رضامندی سے اپنی جائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو یہ بھی درست ہے، مگر یہ تقسیم ترکہ نہیں بلکہ یہ ہبہ (گفٹ) کہلاتا ہے، جس کا بہتر اور افضل طریقہ یہ کا ہے کہ وہ ایک محتاط اندازے کے مطابق اپنی بقیہ زندگی کے لئے جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر بقیہ مال و جائیداد اپنی اولاد کے درمیان برابر تقسیم کر کے ہر ایک کو اس کا حصہ دیکر اس پر اس کو با قاعدہ قبضہ بھی دیدے، تاکہ ہبہ (گفٹ ) شرعا بھی درست اور تام ہو جائے، پھر بہتر یہ ہے کہ اس ہبہ (گفت ) میں سب کو برابر حصہ دے کسی کو کم کسی کو زیادہ نہ دے، کہ سب ہی اس کی اولاد ہے، تاہم کسی بیٹے یا بیٹی کو اس کی دینداری اور خدمت گزاری وغیرہ کی وجہ سے دوسروں کے مقابلے میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو اس کا بھی اسے اختیار ہے، مگر بلا وجہ شرعی کسی کو اپنی جائیدادے نے بالکل محروم نہ کرے، کہ یہ گناہ کی بات ہے۔
كما في شرح المجلة: كل يتصرف في ملكه كيف شاء (إلى قوله ) لان كون الشي ملكا لرجل يقتضى أن يكون مطلقاً في التصرف فيه كيف ما شاء اھ (۴/ ۱۳۲)۔
و في الدر المختار: و في الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم اھ (5/ 696)۔
و في خلاصة الفتاوى: رجل له ابن وبنت اراد ان يهب لهماشيئاً فالأفضل أن يجعل للذكر مثل حظ الانثيين عند محمد، وعند أبي يوسف بينهما سواء هو المختار لورود الآثار ، ولو و هب جميع ماله لابنه جاز فى القضاء وهوإثم نص عن محمد هكذا في العيون - اھ (۴/400) - والله اعلم بالصواب
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2