عرض یہ ہے کہ میر امکان ایک سو بارہ (112) گز کا ہے، اور میری بیوی حیات ہے، اور میری 8 بیٹیاں ہیں اور ایک بیٹا ہے ، اس مکان میں بیٹیوں کا کتنا حصہ ہے ، اور بیٹے کا کتنا حصہ ہے ؟ جس میں سے میری 6 بیٹیاں شادی شدہ ہیں، اور دو کنواری ہیں، جو میرے ساتھ رہتی ہیں ، اور میری دو کنواری بیٹیاں خود کماتی ہیں اور گزر بسر کرتی ہیں، گھر کا سارہ خرچ وہ خود کرتی ہیں ، اور کچھ حصہ میری ان دو بیٹیوں نے بنایا ہے ، اور ایک کمرہ میرے بیٹے نے بنایا ہے جس میں وہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہتا ہے، اس مکان میں میری دو بیٹیوں کا شادی کا خرچہ مجھ پر لاگو ہے ، ان کی ذمہ داری میرے پر ہے کہ نہیں ؟ اور شرعی لحاظ سے اس مکان میں بیٹے کا حصہ کتنا ہے ، اور 8 بیٹیوں کا کتنا ہے ، میرا بیٹا عبد الستار ولد محمد یونس مجھ سے مزید جگہ کا تقاضا کر رہا ہے ، 112 گز میں سے شرعی طور پر اس کا کتنا حصہ بنتا ہے؟ بقایا جگہ میں سے کتنا حصہ ملے گا ؟ 6 بیٹیاں شادی شدہ ہیں اور دو کنواری ہیں ؟
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے پہلے اپنی جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے ، وہ اس میں جس طرح چاہے تصرف کر سکتا ہے، اور اس پر اس کی تقسیم بھی لازم نہیں ، ہاں اگر وہ اپنی مرضی سے تقسیم کرنا چاہے تو یہ شرعاً ہبہ (گفٹ ) کہلا ئیگا، جبکہ ہبہ اور گفٹ کا بہتر اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ سائل ایک محتاط اندازہ کے موافق اپنی بقیہ زندگی کے لئے جو کچھ رکھنا چاہے، وہ ر کھ کر بقیہ مال و جائیداد اپنی اولاد کے درمیان برابر حصوں میں تقسیم کر کے ہر فرد کو اس کے حصے پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے، تا کہ یہ ہبہ شرعاً بھی درست اور تام ہو جائے، محض کاغذوں میں نام کر دینا کافی نہیں، پھر بہتر یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء میں سب کو برابر اور یکساں رکھے کہ سب ہی اس کی اولاد ہیں، کسی کو زیادہ کسی کو کم نہ دے ، البتہ کسی کی خدمت گذاری ، محتاجی یا دین داری وغیرہ کی بناء پر اسے دوسرے ورثاء کے مقابلہ میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو اس کا اسے اختیار ہے، مگر بلاوجہ شرعی کسی وارث کو اپنی جائیداد سے محروم نہ کرے کہ یہ گناہ کی بات ہے۔
جبکہ سائل نے یہ نہیں لکھا کہ بیٹے اور بیٹیوں نے مکان میں جو رقم لگائی تھی وہ بطور قرض کے لگائی تھی یا سائل (والد) کے ساتھ تعاون کی غرض سے لگائی تھی، اگر واپسی کی وضاحت اور صراحت کے بغیر یہ اخراجات کیے ہوں تو سائل کے بیٹے اور بیٹیوں کو اب ان کی لگائی ہوئی رقم واپس نہیں ملے گی، سوال کی نوعیت اگر کچھ اور ہو تو اس کی وضاحت کر کے دوبارہ حکمِ شرعی معلوم کر سکتے ہیں۔
کمافي صحيح مسلم: عن النعمان بن بشير، قال: تصدق علي أبي ببعض ماله، فقالت أمي عمرة بنت رواحة: لا أرضى حتى تشهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فانطلق أبي إلى النبي صلى الله عليه وسلم ليشهده على صدقتي، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أفعلت هذا بولدك كلهم؟» قال: لا، قال: «اتقوا الله، واعدلوا في أولادكم»، فرجع أبي، فرد تلك الصدقة اھ (3/ 1242)
و في الدر المختار: و في الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم اھ (5/ 696)۔
و في خلاصة الفتاوى: رجل له ابن وبنت اراد ان يهب لهماشيئاً فالأفضل أن يجعل للذكر مثل حظ الانثيين عند محمد، وعند أبي يوسف بينهما سواء هو المختار لورود الآثار ، ولو و هب جميع ماله لابنه جاز فى القضاء وهوإثم نص عن محمد هكذا في العيون - اھ (۴/400) -
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2