کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے اپنا ایک مکان فروخت کر دیا ہے ،ستائیس لاکھ روپے کا، میرے چار بیٹے ، پانچ بیٹیاں ہیں، مکان میرا ذاتی تھا، اب اس رقم کو میں اپنی اولاد میں کس طرح تقسیم کروں؟ نیز اولاد میں کوئی زبردستی مجھ سے تقسیم کا مطالبہ کر سکتا ہے؟
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے پہلے اپنی جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے ، وہ اس میں جس طرح چاہیے تصرف کر سکتا ہے، چنانچہ اس پر اپنی زندگی میں اس کی تقسیم بھی لازم نہیں ، اور نہ ہی کسی بیٹے یا بیٹی کے لیے اس سے حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل ہے، لہٰذا سائل کے لیے بھی مذکور رقم اولاد کے درمیان تقسیم کرنا کوئی لازم اور ضروری نہیں، البتہ اگر سائل اپنی مرضی وخوشی سے مذکور مکان کی رقم کو اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو تقسیم کر سکتا ہے، یہ بھی جائز اور درست ہے، مگر یہ تقسیم ترکہ نہیں، بلکہ ہبہ (گفٹ) کہلاتا ہے، جس کا بہترطریقہ کار یہ ہے کہ سائل ایک محتاط اندازہ کے موافق اپنی بقیہ زندگی کے لیے جو کچھ رکھنا چاہے، وہ ر کھ کر بقیہ مال و جائیداد اپنی اولاد کے درمیان برابر حصوں میں تقسیم کر کے ہر فرد کو اس کے حصے پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے، تا کہ یہ ہبہ شرعا بھی درست اور تام ہو جائے، پھر بہتر یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء میں سب کو برابر اور یکساں رکھے کہ سب ہی اس کی اولاد ہیں، کسی کو زیادہ کسی کو کم نہ دے ، البتہ کسی بیٹے یا بیٹی کو خدمت گزاری ، محتاجی یا دین داری وغیرہ کی بناء پر اسے دوسرے اولاد کے مقابلہ میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو اس کا اسے اختیار ہے، مگر بلاوجہ شرعی کسی وارث کو اپنی جائیداد سے محروم نہ کرے کہ یہ گناہ کی بات ہے۔
ففي الدر المختار: و في الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم اھ (5/ 696)۔
و في الفتاوى الهندية: ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا وروي عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار كذا في الظهيرية رجل وهب في صحته كل المال للولد جاز في القضاء ويكون آثما فيما صنع كذا في فتاوى قاضي خان اھ (4/ 391) واللہ اعلم بالصواب
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2