کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے چچا مسمیٰ ’’۔۔۔۔ہ ‘‘ تقریباً بیس سال قبل انتقال کر گئے تھے، جن کی اولاد نہ تھی، اس لیے تمام جائیداد ان کے بھائی مسمیٰ ’’۔۔۔ہ‘‘ کے حصہ میں آئی ،جو کہ میرے والد صاحب کی وفات کے بعد ہم تین بھائیوں (۔۔۔۔۔) کے مابین برابر برابر تقسیم ہوئی، اور میرے چچا چونکہ ایک سرکاری ملازم تھے، روز کی نگہبانی کا کام کیا کرتے تھے، ان کے انتقال کے موقع پر جرگہ بٹھایا گیا، جنہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ چچا کے بدل کے طور پر ان کا بڑا بھتیجا ’’ ۔۔۔‘‘ اب یہ سرکاری ملازمت سنبھالے گا، لیکن اس سے ملنے والی تنخواہ اور رقم مذکور تینوں بھائیوں کے مابین تقسیم کی جائےگی، جس میں سے ’’۔۔۔‘‘ کام کرنے کی وجہ سے سات، آٹھ ہزار زیادہ ملنے کا حقدار ہوگا، لہٰذا اب سوال یہ ہے کہ میں نے عرصہ دس سال سے مذکور نوکری سے ملنے والی رقم میں سے اپنا حصہ نہیں لیا، اور اب مطالبہ کرنے پر ’’۔۔۔‘ انکاری ہے، تو آیا ’... ‘‘ کا یہ انکار کرنا شرعا جائز ہے؟ اور آیا میرا اس رقم میں حصہ بنتا ہےیا نہیں؟
مذکور فیصلہ کہ "سرکاری ملازمت سے ملنے والی تنخوا ہ مرحوم کے تینوں بھتیجوں میں تقسیم ہو گی‘‘ شرعاً درست نہیں، بلکہ مذکور ملازمت سے ملنے والی تنخواہ کا اصل حقدار نظر محمد ہی ہے ، اس لئے نظر محمد کے دیگر بھائیوں کا اپنے بھائی سے تنخواہ کا مطالبہ کر نا شرعا درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
كما في البحر الرائق شرح كنز الدقائق: ورأيت بعض الفضلاء كتب على هذا المحل الفتوى على عدم جواز الاعتياض عن الوظائف وما قاله في كتاب البيوع مما سيأتي الحقوق المجردة لا يجوز الاعتياض عنها كالاعتياض عن حق الشفعة ومسائل أخر سردها في ذلك المحل ترد هذا. اهـ. تأمل. اهـ. كلام الرملي. أقول: بقي هنا شيء وهو أن ما ذكره المؤلف من صحة الفراغ عن وظيفة النظر مخالف لما قدمه قبل ورقة ونصف نقلا عن الظهيرية بقوله المتولي إذا أراد أن يفوض إلى غيره عند الموت إن كان الولاية بالإيصاء يجوز وإن أراد أن يقيم غيره مقام نفسه في صحته وحياته لا يجوز إلا إذا كان التفويض إليه على سبيل التعميم. اهـ. (5/ 253)۔
و في الدر المختار: و في الأشباه لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف، وفيها في آخر بحث تعارض العرف مع اللغة. المذهب عدم اعتبار العرف الخاص لكن أفتى كثير باعتباره اھ (4/ 518)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): مطلب: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة (قوله: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة عن الملك) قال: في البدائع: الحقوق المفردة لا تحتمل التمليك ولا يجوز الصلح عنها (إلی قوله) ووجه ذلك أن الحقوق المجردة لا تورث اھ (4/ 518)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2