کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کا خالد کے ذمہ پچاس ہزار روپے قرضہ ہے ، فی الحال خالد کے پاس پچاس ہزار روپے نہیں ہیں، اور زید کو ایمر جنسی ہے تو ایسی صورت میں زید بکر سے یہ کہتا ہے کہ تم مجھے ابھی اڑتالیس ہزار دیدو اور خالد کے ذمہ جو میرے پچاس ہزار روپے ہیں، وہ تم لے لینا ، شریعت کی رو سے یہ معاملہ جائز ہے یا ناجائز ؟ اگر اس کا متبادل ہو تو وہ بھی ذکر کردیں۔
سوال میں ذکر کردہ صورت قرض پر نفع لینے کی ہے، جو کہ شرعاً ناجائز وحرام ہے جس سے احتراز لازم ہے، البتہ اس معاملہ کی جائز صورت یہ ہوسکتی ہے زید بکر کو خالد سے قرضہ وصول کرنے کا وکیل بنائے، اور اس وکالت پر بکر کو دوہزار روپے اجرت بھی دیدے، اس کے بعد ایک مستقل نئے معاملہ کے ذریعہ بکر سے پچاس ہزار روپے قرضہ وصول کرے، پھر خالد کے ذمہ زید کا جتنا قرضہ ہے، زید بکر کو اس رقم کے وصول کرنے کا اختیار دیدے، اس طرح جب یہ دو علیحدہ علیحدہ معاملات ہوں گے تو یہ شرعاً درست ہوں گے۔
کما فی الدرالمختار: (تمليك الدين ممن ليس عليه الدين باطل إلا) في ثلاث: حوالة، وصية، و (إذا سلطه) أي سلط المملك غير المديون (على قبضه) أي الدين (فيصح) حينئذ الخ (5/708)۔
و فی بحوث فی قضایا فقھیة معاصرۃ: وإن خصم الكمبيالة بهذا الشكل غير جائز شرعا، إما لكونه بيع الدين من غير من عليه الدين، أو لأنه من قبيل بيع النقود بالنقود متفاضلة ومؤجلة، وحرمته منصوصة في أحاديث ربا الفضل. ولكن هذه المعاملة يمكن تصحيحها بتغيير طريقها وذلك أن يوكل صاحب الكمبيالة البنك باستيفاء دينه من المشتري (وهو مصدر الكمبيالة) ويدفع إليه أجرة على ذلك، ثم يستقرض منه مبلغ الكمبيالة، ويأذن له أن يستوفي هذا القرض مما يقبض من المشتري بعد نضج الكمبيالة، فتكون هناك معاملتان مستقلتان: الأولى معاملة التوكيل باستيفاء الدين بالأجرة المعينة، والثانية: معاملة الاستقراض من البنك، والإذن باستيفاء القرض من الدين المرجو حصوله بعد نضج الكمبيالة، فتصح كلتا المعاملتين على أسس شرعية، أما الأولى، فلكونها توكيلا بالأجرة، وذلك جائز، وأما الثانية، فلكونها استقراضا من غير شرط زيادة، وهو جائز أيضا.الخ (1/24)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0