احکام وراثت

شرعی حصص کے بجائے آپس کی رضامندی سے ترکہ کی تقسیم کرنا

فتوی نمبر :
85578
| تاریخ :
2025-08-25
معاملات / ترکات / احکام وراثت

شرعی حصص کے بجائے آپس کی رضامندی سے ترکہ کی تقسیم کرنا

عنوان:
والدہ کی وراثت کی تقسیم اور تخارج کے متعلق شرعی و فقہی رہنمائی

اہلِ خانہ کی تفصیل:

والدہ کا انتقال ہو چکا ہے

ورثاء: والد (شوہر)، دو بیٹے

کوئی بیٹی، بہن یا بھائی نہیں

جائیداد میں مکان، 3 بی ایچ کے فلیٹ، سونا اور نقد رقم شامل ہے

سوالات برائے فتویٰ:

شریعت کے مطابق والدہ کی اس جائیداد کی تقسیم والد (شوہر) اور بیٹوں میں کس طرح ہوگی؟

اگر جائیداد (مثلاً مکان یا فلیٹ) تقسیم کرنا ممکن نہ ہو یا ورثاء سب بالغ و عاقل ہو کر بہ رضا و رغبت چاہتے ہیں کہ کسی ایک وارث کو مکمل ملکیت دے دی جائے تو کیا شریعت میں تخارج (اپنے حصے سے دستبرداری) کی اجازت ہے؟

اس تخارج کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

کیا تخارج کی اجازت جائیدادورثاء کے نام رجسٹر (transfer/registration) ہونے سے پہلے بھی ہے یا صرف قبضہ/رجسٹری کے بعد ہی تخارج ممکن ہے؟

تخارج کی شرعی پیمائش: کیا کسی وارث کو بہت معمولی یا ناقدری چیز کے بدلے اپنا حصہ چھوڑنا یا کسی معاوضہ کے بغیر چھوڑنا جائز ہے؟

اگر سب وارث رضا مندی سے ورثہ کی مختلف اشیاء (جیسے کوئی سونا لے، کوئی نقد رقم، کوئی جائیداد) اپنی پسند سے آپس میں تقسیم کریں جبکہ یہ واضح طور پر شریعت کے مقررہ حصص کے مطابق نہ ہو، تو کیا یہ معاہدہ شریعت میں جائز ہے؟

اگر سب وارث بالاتفاق والدہ کی کچھ یا پوری جائیداد کو صدقہ یا کسی دینی مقصد پر وقف کرنا چاہیں بغیر اپنے حصے الگ کیے، تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

والدہ کی وراثت کی تقسیم اور تخارج کے متعلق شرعی و فقہی راہنمائی اہلِ خانہ کی تفصیل:والدہ کا انتقال ہو چکا ہے،ورثاءمیں والد (شوہر)، دو بیٹے،کوئی بیٹی، بہن یا بھائی نہیں،جائیداد میں مکان، 3 بی ایچ کے فلیٹ، سونا اور نقد رقم شامل ہے،سوالات برائے فتویٰ:شریعت کے مطابق والدہ کی اس جائیداد کی تقسیم والد (شوہر) اور بیٹوں میں کس طرح ہوگی؟اگر جائیداد (مثلاً مکان یا فلیٹ) تقسیم کرنا ممکن نہ ہو یا ورثاء سب بالغ و عاقل ہو کر بہ رضا و رغبت چاہتے ہیں کہ کسی ایک وارث کو مکمل ملکیت دے دی جائے تو کیا شریعت میں تخارج (اپنے حصے سے دستبرداری) کی اجازت ہے؟اس تخارج کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا کسی وارث کو بہت معمولی یا ناقدری چیز کے بدلے اپنا حصہ چھوڑنا یا کسی معاوضہ کے بغیر چھوڑنا جائز ہے،اگر سب وارث رضا مندی سے ورثہ کی مختلف اشیاء (جیسے کوئی سونا لے، کوئی نقد رقم، کوئی جائیداد) اپنی پسند سے آپس میں تقسیم کریں، جبکہ یہ واضح طور پر شریعت کے مقررہ حصص کے مطابق نہ ہو، تو کیا یہ معاہدہ شریعت میں جائز ہے؟اگر سب وارث بالاتفاق والدہ کی کچھ یا پوری جائیداد کو صدقہ یا کسی دینی مقصد پر وقف کرنا چاہیں بغیر اپنے حصے الگ کیے، تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
اس کے بعد واضح ہوکہ مرحومہ کا ترکہ اس کے موجود ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومہ نے بوقتِ انتقال جو کچھ مال و جائیدا د، سونا، چاندی ،زیورات نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو، ساز وسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے،وہ سب مرحومہ کا ترکہ کا ہے، مرحومہ کے کفن دفن کے متوسط مصارف اس کے شوہر پر لازم ہیں، چنانچہ اگر وہ اخرجات شوہر نے اداء کر دیئے ہوں یا کسی اور نے بطور تبرع و احسان ادا کر دیئے ہوں تو وہ ترکہ سے منہانہ کئے جائیں گے، اس کے بعد دیکھیں کہ اگرمرحومہ کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداء ہو تو وہ ادا کریں ،اس کےبعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1)کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل آٹھ (8) حصے بنائےجائیں،جن میں سے مرحومہ کے شوہر کو دو (2) حصے ،اور مرحومہ کے ہر بیٹے کو تین (3) حصے دیئے جائیں، جیساکہ ذیل کے نقشے سے بھی واضح ہورہا ہے،مزید سہولت کےلئے فیصدی حصے بھی لکھ دئیے گئے ہیں،ملاحظہ ہو۔

مسئلہ 4/8 المضروب 2
میتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
شوہر بیٹا بیٹا
1 3/6
2 3 3
25% 37.5% 37.5%

مأخَذُ الفَتوی

کما فی شرح الاشباہ و النظائر : ما یقبل الاسقاط من الحقوق وما لا یقبلہ و بیان ان الساقط لا یعود لو قال الوارث: ترکت حقی لم یبطلہ حقہ اذ الملک لا یبطل بالترک، و الحق یبطل بہ حتی لو ان احداً من الغانمین قال قبل القسمۃ: ترکت حقی بطل حقہ الخ
وفی غمز عیون البصائر فی شرح الأشباہ والنظائر : قولہ: ”لو قال الوارث: ترکت حقی إلخ“ اعلم أن الإعراض عن الملک ،أو حق الملک ضابطہ أنہ إن کان ملکا لازما لم یبطل بذلک کما لو مات عن ابنین ،فقال أحدہما: ترکت نصیبی من المیراث لم یبطل؛ لأنہ لازم لا یترک بالترک، بل إن کان عینا فلا بد من التملیک، وإن کان دینا فلا بد من الإبراء الخ (الفن الثالث وھو فن الجمع والفرق، ج: 3 ، ص: 53 ، ط: ادارۃ القرآن)۔
وفی تکملہ رد المحتار : لو قال ترکت حقي من المیراث ،أو برئت منھا ومن حصتي لا یصح، وھو علی حقہ ؛ لأن الإرث جبري ،لا یصح ترکہ الخ (کتاب الدعوی، باب دعوة النسب، ج: 8 ، ص: 89 ، ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی الدر المختار: (لا) تتم بالقبض (فیما یقسم) وھبہ(لشریکہ) او لاجنبی لعدم تصور القبض الکامل کما فی عامۃ الکتب فکان ھذا المذھب وفی الصیرفیۃ عن العتابی وقیل یجوز لشریکہ وھو المختار(فان قسمہ وسلمہ صح)لزوال المانع(ولو سلمہ شائعا لایملکہ فلا ینفذ تصرفہ فیہ الخ(کتاب الھبۃ ، ج: 5 ، ص: 692 ، ط: سعید)۔
وفی بدائع الصنائع: وقسمة رضا: وهي التي يفعلها الشركاء بالتراضي (إلی قولہ) (ومنھا) الرضا فی أحد نوعی القسمۃ وھو رضا الشرکاء فیما یقسمونہ بانفسھم إذا کانوا من أھل الرضا أو رضا من یقوم مقامھم إذا لم یکونوا من أھل الرضا فإن لم یوجد لا یصح حتی لو کان فی الورثۃ صغیر لا وصی لہ أو کبیر غائب فاقتسموا فالقسمۃ باطلۃ لما ذکرنا أن القسمۃ فیھا معنی البیع وقسمۃ الرضا أشبہ بالبیع ثم لایملکون البیع بالتراضی فکذا القسمۃ الخ (کتاب القسمۃ، ج: 7، ص: 19 ۔ 22، ط: ایچ ایم سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد رحمان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85578کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء =بیوہ, 2 بھائی 1 بہن)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • زندگی میں تقیسم جائیداد کا حکم اور طریقہ

    یونیکوڈ   انگلش   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء =ایک بیوہ تین بیٹے دو بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات