عنوان:
والدہ کی وراثت کی تقسیم اور تخارج کے متعلق شرعی و فقہی رہنمائی
اہلِ خانہ کی تفصیل:
والدہ کا انتقال ہو چکا ہے
ورثاء: والد (شوہر)، دو بیٹے
کوئی بیٹی، بہن یا بھائی نہیں
جائیداد میں مکان، 3 بی ایچ کے فلیٹ، سونا اور نقد رقم شامل ہے
سوالات برائے فتویٰ:
شریعت کے مطابق والدہ کی اس جائیداد کی تقسیم والد (شوہر) اور بیٹوں میں کس طرح ہوگی؟
اگر جائیداد (مثلاً مکان یا فلیٹ) تقسیم کرنا ممکن نہ ہو یا ورثاء سب بالغ و عاقل ہو کر بہ رضا و رغبت چاہتے ہیں کہ کسی ایک وارث کو مکمل ملکیت دے دی جائے تو کیا شریعت میں تخارج (اپنے حصے سے دستبرداری) کی اجازت ہے؟
اس تخارج کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
کیا تخارج کی اجازت جائیدادورثاء کے نام رجسٹر (transfer/registration) ہونے سے پہلے بھی ہے یا صرف قبضہ/رجسٹری کے بعد ہی تخارج ممکن ہے؟
تخارج کی شرعی پیمائش: کیا کسی وارث کو بہت معمولی یا ناقدری چیز کے بدلے اپنا حصہ چھوڑنا یا کسی معاوضہ کے بغیر چھوڑنا جائز ہے؟
اگر سب وارث رضا مندی سے ورثہ کی مختلف اشیاء (جیسے کوئی سونا لے، کوئی نقد رقم، کوئی جائیداد) اپنی پسند سے آپس میں تقسیم کریں جبکہ یہ واضح طور پر شریعت کے مقررہ حصص کے مطابق نہ ہو، تو کیا یہ معاہدہ شریعت میں جائز ہے؟
اگر سب وارث بالاتفاق والدہ کی کچھ یا پوری جائیداد کو صدقہ یا کسی دینی مقصد پر وقف کرنا چاہیں بغیر اپنے حصے الگ کیے، تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
والدہ کی وراثت کی تقسیم اور تخارج کے متعلق شرعی و فقہی راہنمائی اہلِ خانہ کی تفصیل:والدہ کا انتقال ہو چکا ہے،ورثاءمیں والد (شوہر)، دو بیٹے،کوئی بیٹی، بہن یا بھائی نہیں،جائیداد میں مکان، 3 بی ایچ کے فلیٹ، سونا اور نقد رقم شامل ہے،سوالات برائے فتویٰ:شریعت کے مطابق والدہ کی اس جائیداد کی تقسیم والد (شوہر) اور بیٹوں میں کس طرح ہوگی؟اگر جائیداد (مثلاً مکان یا فلیٹ) تقسیم کرنا ممکن نہ ہو یا ورثاء سب بالغ و عاقل ہو کر بہ رضا و رغبت چاہتے ہیں کہ کسی ایک وارث کو مکمل ملکیت دے دی جائے تو کیا شریعت میں تخارج (اپنے حصے سے دستبرداری) کی اجازت ہے؟اس تخارج کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا کسی وارث کو بہت معمولی یا ناقدری چیز کے بدلے اپنا حصہ چھوڑنا یا کسی معاوضہ کے بغیر چھوڑنا جائز ہے،اگر سب وارث رضا مندی سے ورثہ کی مختلف اشیاء (جیسے کوئی سونا لے، کوئی نقد رقم، کوئی جائیداد) اپنی پسند سے آپس میں تقسیم کریں، جبکہ یہ واضح طور پر شریعت کے مقررہ حصص کے مطابق نہ ہو، تو کیا یہ معاہدہ شریعت میں جائز ہے؟اگر سب وارث بالاتفاق والدہ کی کچھ یا پوری جائیداد کو صدقہ یا کسی دینی مقصد پر وقف کرنا چاہیں بغیر اپنے حصے الگ کیے، تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
اس کے بعد واضح ہوکہ مرحومہ کا ترکہ اس کے موجود ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومہ نے بوقتِ انتقال جو کچھ مال و جائیدا د، سونا، چاندی ،زیورات نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو، ساز وسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے،وہ سب مرحومہ کا ترکہ کا ہے، مرحومہ کے کفن دفن کے متوسط مصارف اس کے شوہر پر لازم ہیں، چنانچہ اگر وہ اخرجات شوہر نے اداء کر دیئے ہوں یا کسی اور نے بطور تبرع و احسان ادا کر دیئے ہوں تو وہ ترکہ سے منہانہ کئے جائیں گے، اس کے بعد دیکھیں کہ اگرمرحومہ کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداء ہو تو وہ ادا کریں ،اس کےبعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1)کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل آٹھ (8) حصے بنائےجائیں،جن میں سے مرحومہ کے شوہر کو دو (2) حصے ،اور مرحومہ کے ہر بیٹے کو تین (3) حصے دیئے جائیں، جیساکہ ذیل کے نقشے سے بھی واضح ہورہا ہے،مزید سہولت کےلئے فیصدی حصے بھی لکھ دئیے گئے ہیں،ملاحظہ ہو۔
مسئلہ 4/8 المضروب 2
میتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
شوہر بیٹا بیٹا
1 3/6
2 3 3
25% 37.5% 37.5%
کما فی شرح الاشباہ و النظائر : ما یقبل الاسقاط من الحقوق وما لا یقبلہ و بیان ان الساقط لا یعود لو قال الوارث: ترکت حقی لم یبطلہ حقہ اذ الملک لا یبطل بالترک، و الحق یبطل بہ حتی لو ان احداً من الغانمین قال قبل القسمۃ: ترکت حقی بطل حقہ الخ
وفی غمز عیون البصائر فی شرح الأشباہ والنظائر : قولہ: ”لو قال الوارث: ترکت حقی إلخ“ اعلم أن الإعراض عن الملک ،أو حق الملک ضابطہ أنہ إن کان ملکا لازما لم یبطل بذلک کما لو مات عن ابنین ،فقال أحدہما: ترکت نصیبی من المیراث لم یبطل؛ لأنہ لازم لا یترک بالترک، بل إن کان عینا فلا بد من التملیک، وإن کان دینا فلا بد من الإبراء الخ (الفن الثالث وھو فن الجمع والفرق، ج: 3 ، ص: 53 ، ط: ادارۃ القرآن)۔
وفی تکملہ رد المحتار : لو قال ترکت حقي من المیراث ،أو برئت منھا ومن حصتي لا یصح، وھو علی حقہ ؛ لأن الإرث جبري ،لا یصح ترکہ الخ (کتاب الدعوی، باب دعوة النسب، ج: 8 ، ص: 89 ، ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی الدر المختار: (لا) تتم بالقبض (فیما یقسم) وھبہ(لشریکہ) او لاجنبی لعدم تصور القبض الکامل کما فی عامۃ الکتب فکان ھذا المذھب وفی الصیرفیۃ عن العتابی وقیل یجوز لشریکہ وھو المختار(فان قسمہ وسلمہ صح)لزوال المانع(ولو سلمہ شائعا لایملکہ فلا ینفذ تصرفہ فیہ الخ(کتاب الھبۃ ، ج: 5 ، ص: 692 ، ط: سعید)۔
وفی بدائع الصنائع: وقسمة رضا: وهي التي يفعلها الشركاء بالتراضي (إلی قولہ) (ومنھا) الرضا فی أحد نوعی القسمۃ وھو رضا الشرکاء فیما یقسمونہ بانفسھم إذا کانوا من أھل الرضا أو رضا من یقوم مقامھم إذا لم یکونوا من أھل الرضا فإن لم یوجد لا یصح حتی لو کان فی الورثۃ صغیر لا وصی لہ أو کبیر غائب فاقتسموا فالقسمۃ باطلۃ لما ذکرنا أن القسمۃ فیھا معنی البیع وقسمۃ الرضا أشبہ بالبیع ثم لایملکون البیع بالتراضی فکذا القسمۃ الخ (کتاب القسمۃ، ج: 7، ص: 19 ۔ 22، ط: ایچ ایم سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2