ہے مفتی صاحب خیریت سے ہوں گے، میں جاننا چاہتا ہوں کہ بغیر سینگ والے یا جن کے سینگ نکال دیے گئے ہوں، کیا ان کی قربانی جائز ہے؟ کیونکہ بہت سے مویشی پال حضرات جانوروں کے سینگ نکال دیتے ہیں، اور بعد میں انہی جانوروں کو قربانی کے لئے فروخت کیا جاتا ہے، خاص طور پر گائے اور بیل وغیرہ
واضح ہو کہ اگر جانور کے سینگ جڑ سے اس طریقے سے اکھاڑے جائیں کہ اس عمل کا اثر دماغ تک پہنچ جائے، تب تو اس جانور کی قربانی جائز نہیں ہوگی، لیکن اگر ایسا طریقہ اختیار کیا جائے کہ اس عمل کی وجہ سے جانور کا دماغ متاثر نہ ہو تو ایسے جانور کی قربانی جائز ہوگی۔ نیز اگر وقتی طور پر جانور کا دماغ اس عمل کی وجہ سے متاثر ہوگیا ہو، لیکن قربانی کے وقت تک اس اثر کا ازالہ ہوچکا ہو، یعنی جانور دماغی لحاظ سے ٹھیک ہوچکا ہو، تب بھی قربانی جائز ہوگی۔ جبکہ بغیر سینگ والے جانوروں کی قربانی جائز ہے۔
کما فی الھندیۃ : ويجوز بالجماء التي لا قرن لها، وكذا مكسورة القرن، كذا في الكافي. وإن بلغ الكسر المشاش لا يجزيه، والمشاش رءوس العظام مثل الركبتين والمرفقين، كذا في البدائع.اھ (كتاب الأضحية، الباب الخامس في بيان محل إقامة الواجب، ج: 5، ص: 297، ط: ماجدیۃ)ـ
وفی الدر المختار : (ویضحی بالجماء والخصی والثولاء) الخ
وفی رد المحتار : تحت : (قوله ويضحي بالجماء) هي التي لا قرن لها خلقة وكذا العظماء التي ذهب بعض قرنها بالكسر أو غيره، فإن بلغ الكسر إلى المخ لم يجز قهستاني، وفي البدائع إن بلغ الكسر المشاش لا يجزئ والمشاش رءوس العظام مثل الركبتين والمرفقين اهـ (كتاب الأضحية، ج: 6، ص: 323، ط: سعید)ـ