ویڈیو گیمز میں، اکثر کھلینے والے ایسے کرداروں کے ساتھ کھیلتے ہیں جو کافر ہوتے ہیں (عیسائی، مشرک وغیرہ)، بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جس کردار کو آپ کھیل رہے ہیں وہ کفر کا کوئی کام کرتا ہے، جیسے کوئی کفری بات کہنا یا عبادت کا عمل کرنا، لیکن یہ آپ کے اختیار میں نہیں ہوتا، مثال کے طور پر، گیم آپ کو بتاتی ہے کہ چرچ جاؤ اور پھر ایک "کٹ سین" شروع ہو جاتا ہے جو فلم کی طرح ہوتا ہے، اس وقت آپ کے پاس کوئی کنٹرول نہیں رہتا، لیکن کردار عبادت شروع کر دیتا ہے اور کھلاڑی صرف دیکھتا ہے جیسے کوئی فلم ہو یا پھر یہ کہ آپ کو گیم میں کوئی کام کرنے کا بولا جاۓ اور وہ کام کرنے کے بعد وہ کوئی کفریہ جملہ بولے جیسا کہ "میں خدا کو نہیں مانتا" ، اگر کسی کو پہلے سے علم ہو کہ ایسا ہوگا، تو کیا یہ کفر شمار ہوگا حالانکہ وہ دل میں اس عملِ کفر کو ناپسند کرتا ہے؟
اور اگر اس کٹ سین کو آگے کردینے کا آپشن ہو اور اس صورت میں عبادت کا عمل نظر نہ آئے لیکن پھر بھی کہانی اور گیم کی کہانی میں وہ حصہ شامل ہو، تو کیا یہ صورتحال بھی کفر ہوگی؟آجکل بہت سے نوجوان اس قسم کی گیمز کھیلتے ہیں ، برائے کرم رہنمائی فرمایئں۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور ویڈیو گیمز میں ایسے کردارادا کرنے والے پلیئر کو کھیلنا جوکسی کام کے کرنے پر کوئی کفریہ بات کہتاہو یاکوئی کفریہ عمل کرتا ہو تو ایسے ویڈیو گیمز کھیلنے سے اس کھیلنے والے کے دل سے چونکہ اسلام کی عظمت و وقار کےختم ہونے اور کلمۂ کفر کہنے و عملِ کفر کے کرنے پر اس کا جَری ہونا کوئی بعیدنہیں، اس لئے ایسے کفریہ اقوال و افعال پر مشتمل گیمز کھیلنا ایک مسلمان کی شایانِ شان نہ ہونے کی بناء پرفی الفور واجب الترک ہے، تاہم اس گیمز کو کھیلنے والا اگر خود کوئی کفریہ قول و فعل نہیں کرتا اور نہ ہی مذکور گیم کھیلنے سے اس کا دین کے کسی بات کا استخفاف و استہزاء مقصود ہو تو ایسی صورت میں اس گیم کھیلنے والے پر محض اس کفریہ اقوال و افعال پر مشتمل گیم کھیلنے اور اس پلیئرز/کردار اداکرنے والے کے کفریہ قول و عمل کی وجہ سے کفر کا حکم نہیں لگایا جاسکتا، البتہ ایسے لایعنی ،اور خصوصاً مضرِ دین وعملِ کفر پر ابھارنے والے گیمز کھیلنے سے مکمل اجتناب لازم و ضروری ہے۔
کما فی مرقاۃ المفاتیح: (تحت قولہ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من حسن إسلام المرء) أي: من جملة محاسن إسلام الشخص وكمال إيمانه (تركه ما لا يعنيه) ، أي: ما لايهمه ولايليق به قولًا و فعلًا و نظرًا و فكرًا، فحسن الإسلام عبارة عن كماله، وهو أن تستقيم نفسه في الإذعان لأوامر الله تعالى ونواهيه، والاستسلام لأحكامه على وفق قضائه وقدره فيه، وهو علامة شرح الصدر بنور الرب، ونزول السكينة على القلب، وحقيقة ما لايعنيه ما لايحتاج إليه في ضرورة دينه ودنياه، و لاينفعه في مرضاة مولاه بأن يكون عيشه بدونه ممكنًا، وهو في استقامة حاله بغيره متمكنًا، وذلك يشمل الأفعال الزائدة والأقوال الفاضلة إلخ(کتاب الآداب، باب حفظ اللسان من الغیبۃ والشتم، ج: 7، ط: 3040، ط: دارالفکر)۔
وفی الدر المختار: والكفر لغة: الستر. وشرعا: تكذيبه صلى الله عليه وسلم في شيء مما جاء به من الدين ضرورة وألفاظه تعرف في الفتاوى، بل أفردت بالتآليف مع أنه لا يفتى بالكفر بشيء منها إلا فيما اتفق المشايخ عليه كما سيجيء إلخ(کتاب الجھاد، باب المرتد، ج: 4، ص: 223، ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: ومن أتی بلفظۃ الکفر وھو لم یعلم أنھا کفر إلا أنہ أتی بھا عن اختیار یکفر عند عامۃ العلماء خلافا للبعض ولا یعذر بالجھل کذا فی الخلاصۃ، الھازل أو المستھزئ إذا تکلم بکفر استخفافا واستھزاء ومزاحاً یکون کفرا عند الکل وان کان اعتقادہ خلافا ذلک إلخ(الباب التاسع فی أحکام المرتدین، ج: 2، ص: 276، ط: ماجدیۃ)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1