طابیہ نام "ط" سے آتا ہے یا "ت" سے ؟پہلے سے ہی بچی کا نام طابیہ ہے، کچھ لوگ کہتے ہیں طابیہ ایسے لکھتے ہیں کچھ کہتے ہیں تابیہ ایسے لکھتے ہیں ، اس لئیے آپ سے پوچھا
واضح ہو کہ لفظ تابیہ "ت" کے ساتھ ایک بے معنی لفظ ہے، جب کہ طاء کے ساتھ اس لفظ کے مختلف معانی ہیں، نرمی و خوش اخلاقی سے بلانے والی عورت، دل کش و پرکشش عورت، رہنمائی کرنے والی عورت، لہذا بچی کا نام طابیہ رکھنا اور لكھنا ہی زیادہ مناسب اور موزوں ہے ۔
كما في معجم الوسيط: (طباه) إِلَيْهِ طبوا دَعَاهُ دُعَاء لطيفا واستماله إِلَيْهِ وقاده (ج: 2، ص: 551)
وفي لسان العرب: وطَبَيته إِلَيْنَا طَبْياً وأَطْبَيْته: دَعَوْته، وَقِيلَ: دَعَوْتُه دُعاءً لَطِيفًا، وَقِيلَ: طَبَيْته قُدْته؛ ويروى: " طبو" يَطْبُوني أَي يَقُودُني. وطَباهُ طبو يَطْبُوه ويَطْبِيه إِذَا دَعاه؛ ... يقال: طَباهُ طبو يَطْبُوه ويَطْبِيه إِذَا دَعاهُ وصَرَفَه إِلَيْهِ واختارَه لنَفْسِه، (ج: 15، ص: 4)
وفي تاج العروس: و ( طبيته إليه: دعوته) ؛ نقله الجوهري؛ ومنه قول ذي الرمة: ليالي الله و يطبِيني فأتبعه كأنني ضارب في غمرة لعب يقول: يدعوني اللهو فأتبعه. (كأطبيته) ، نقله ابن سيده وضبطه بتشديد الطاء وسيأتي. و طبيته أيضا: (قُدتُه) ؛ عن اللحياني، وبه فسر قول ذي الرمة السابق، وقال: أي يقودني. (ج: 38، ص: 480)