السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !ہم تین بہن بھائی ہیں، میں، ایک سگی بہن اور ایک خالہ زاد بہن، (جس کو سائل کے والدین نے لے پالک بیٹی بنایا تھا)والدین دونوں کا انتقال ہو چکا ہے، والد صاحب نے اپنی حیات میں ہی اپنی لےپالک بیٹی ،(سائل کی خالہ زاد بہن) کو ایک مکان کا آدھا حصہ اور ایک دوسری جائیداد کا کچھ حصہ دے دیا تھا، والدہ فرمایا کرتی تھیں کہ اس کے بعد خالہ زاد بہن کا مزید کوئی حصہ نہیں بنتا،باقی جائیداد صرف میں (سائل)اور سگی بہن کے درمیان ہے، البتہ والدہ کی زندگی میں ہم تینوں نے یہ طے کیا کہ سب کچھ برابر تقسیم کر لیں گے،میں نے کہا تھا کہ اگر مجھے اولاد ہوئی تو پھر میں شرعی حصے کے مطابق لوں گا، لاعلمی اور بیماری کی وجہ سے میں یہ بات بھول گیا اور ایک جائیداد فروخت کر کے ہم تینوں نے رقم برابر تقسیم کر لی،اب بہنیں کہتی ہیں کہ چونکہ تم نے کہا تھا کہ اولاد ہونے کی صورت میں شرعی حصہ لو گے، اور چونکہ میں اب اولاد والا ہوں، تو مسئلہ پیدا ہوگیا ہے، میرا سوال یہ ہے کہ (1) کیا اس طرح برابر تقسیم کرنے پر ہم پر کوئی گناہ یا وبال آئے گا؟ (2)کیا خالہ زاد بہن کو والد صاحب کے دیے ہوئے حصے کے بعد مزید حصہ لینا شرعاً درست ہے؟ (3)کیا اب جبکہ دونوں بہنوں کو یہ بات یاد تھی، اس کے باوجود انہوں نے خاموشی سے فروخت شدہ زمین کے حصے کی رقم لے لی اور کافی عرصے بعد مجھے یاد دلایا، تو کیا وہ رقم جو وہ وصول کر چکی ہیں، واپس کرنا ان پر لازم ہے؟ براہ ِکرم واضح شرعی رہنمائی فرمائیں۔
نوٹ: اصل وارث دو ہی ہیں ، سائل ،اور اس کی بہن ،اور سائل کی خالہ زاد بہن کو اس کے والدین نے گود لیا ہوا تھا۔
واضح ہو کہ کسی بچے کو لے پالک اولاد بنانا شرعاً جائز تو ہے ،لیکن اس پر حقیقی اولاد والے احکام جاری نہیں ہوتے، لہٰذا لےپالک اولاد شرعاً پرورش کرنے والے کی میراث میں حصہ دار نہ ہوگی، بلکہ اپنے حقیقی ماں باپ کی وارث ہوگی، البتہ اگر پرورش کرنے والا شخص اپنی صحت والی زندگی میں اپنی مرضی و خوشی سے لے پالک بچہ کو جائیداد میں سے کچھ دیکر اس پر اسے باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دے دے تو اس سے وہ اس جائیداد کی مالک بن جائے گا، اور ایسا کرنا شرعاً بھی جائز ہوگا،لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کی مذکور خالہ زاد بہن اس کے والدین کے ترکہ میں شرعا ًحقیقی اولاد کی طرح تو وارث نہیں، تا ہم والدین نے اپنی زندگی میں جو جائیداد اسے دی تھی اگر اس پر اسے باقاعدہ قبضہ اور مکمل تصرف کا اختیار بھی دے دیا تھا، تو شرعاً وہ اس کی مالک بن چکی ہے، اور اب دیگر ورثا کا اس میں کوئی حصہ نہیں، جبکہ جو جائیداد ترکہ میں والدین کی جانب سے چھوڑی گئی، اس میں فقط حقیقی بیٹا اور بیٹی ہی ایک اور دو کی نسبت سے شریک تھے، مگر جب انہوں نے باہم رضامندی سے خالہ زاد بہن کو اپنے ساتھ ملا کر فروخت کردہ جائیداد برابر سرابر تقسیم کرکے اپنے حصے پر قبضہ بھی کر لیا تو شرعاً یہ مصالحت کا عمل بھی درست ہوا ہے، فقط سائل کی جانب سے کی گئی بات (اولاد کی صورت میں شرعی حصے کے مطابق لوں گا) کی وجہ سے سائل کی حقیقی اور خالہ زاد بہن پر کسی چیز کا واپس کرنا لازم نہیں، البتہ ترکہ کی بقیہ جائیداد کو برابری کے لحاظ سے تینوں میں تقسیم کرنا ضروری نہیں، بلکہ شرعی ضابطے کے مطابق سائل اور اس کی حقیقی بہن کے درمیان للذکر مثل حظ الانثیین (یعنی سائل کو دو حصے، اور بہن کا ایک حصہ )کے اعتبار سے تقسیم کر سکتے ہیں۔
کما قال اللہ تعالی: يُوْصِيْكُمُ اللّٰهُ فِيْٓ اَوْلَادِكُمْ ۤ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ الآیہ؛ (سورۃ النساء، )
و فی تفسیر المظھری:وَما جَعَلَ الله أَدْعِياءَكُمْ أَبْناءَكُمْ فلايثبت بالتبني شىء من أحكام البنوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك".سورة الأحزاب، 286/7، ط: مكتبه رشيدية)۔
وفی الدر المختار:(و) حکمھا (أنھا لا تبطل بالشروط الفاسدۃ) فھبۃ عبد علی أن یعتقہ تصح ویبطل الشرط الخ(کتاب الھبۃ ج:5،ص:667،ط:سعید)۔
و فی الھندیۃ: قال أصحابنا جمیعا اذا وھب ھبۃ و شرط فیھا شرطا فاسدا فالھبۃ جائزۃ و الشرط باطل کمن وھب لرجل أمۃ فالشترط علیہ أن لا یبیعھا أو شرط علیہ أن یتخذھا ام ولد أو أن یبیعھا من فلان أو یردھا علیہ بعد شھر فالھبۃ جائزۃ و ھذہ الشروط کلھا باطلۃ کذا فی السراج الوھاج و إن وھب لرجل أمۃ علی أن یردھا علیہ أو علی أن یعتقھا أو علی أن یستولدھا أو وھب لہ دار أو تصدق علیہ بدار علی أن یرد علیہ شیئا منھا أو یعوضہ شیئا منھا فالھبۃ جائزۃ والشرط باطل الخ (کتاب الھبۃ ج:5،ص:396،ط:ماجدیۃ)۔
و فیھا أیضا: لیس لہ حق الرجوع بعد التسلیم فی ذی الرحم المحرم وفیما سوی ذلک لہ حق الرجوع إلا أن بعد التسلیم لا ینفرد الواھب بالرجوع بل یحتاج فیہ الی القضاء أو الرضا أو قبل التسلیم ینفرد الواھب بذلک ھکذا فی الذخیرۃ الخ ( کتاب الھبۃ الباب الخامس فی الرجوع فی الھبۃ ج:4،ص:358،ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضا: و أما النساء فالأولی البنت و لھا النصف إذا انفردت و للبنتین فصاعداً الثلثان کذا فی الاختیار شرح المختار و إذا اختلط البنون و البنات عصب البنون البنات فیکون للإبن مثل حظ الأنثیین کذا فی التبیین الخ۔(کتاب الفرائض، ج:6، ص: 448، ط: ماجدیہ)۔
و فی شرح المجلۃ: تنعقد الھبۃ بالإیجاب و القبول و تتم بالقبض الخ ( الباب الأول ج 3، ص 344، ط مکتبۃ اسلامیۃ کوئٹہ )۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2