کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں عصر کی دوسری رکعت میں پہنچا، قعدہ اخیرہ میں امام کے ساتھ دائیں طرف سلام پھیر لیا، یاد آنے پر کہ مسبوق ہوں لفظ السلام علیکم بھی نہیں کہا اور نہ ہی پورا چہرہ پھرا بلکہ دوسری رکعت کے لئے کھڑا ہو گیا۔ نماز مکمل کی اور آخر میں سجدہ سہو نہیں کیا۔ کیا میری نماز ادا ہوئی یا سجدہ کرنا چاہیے تھا۔
اگر سائل نے امام کےسلام کے بعد باقاعدہ سلام نہ پھیرا ہو بلکہ سر دائیں طرف گھماتے ہوئے الفاظ سلام اداء کرنے سےپہلے اسے اپنا مسبوق ہو نا یاد آیا ہو تو محض سر ایک طرف گھمانے کی وجہ سے اس پرسجدہ سہو لازم نہیں ہوا ،بلکہ اس کی نماز بلا شبہ درست اداء ہو چکی ہے۔
وفی رد المختار وان سلم معہ او قبلہ لایلزمہ لانہ مقتد ( ج: 1 ص : 599 ناشر سعید )
وفی فتح القدیر ولو سلم المسبوق مع الامام ساہیا لا سہو علیہ وان سلم بعدہ فعلیہ ( ج : 1 ص : 339 ناشر : رشیدیہ)
وفی الفتاوی الھندیۃ انہ لو سلم مع الامام ساہیا او قبلہ لایلزمہ السجود السہو ( ج: 1 ص: 91 ناشر ماجیدیہ)
دورانِ نماز قرأت میں کوئی ایسی غلطی سرزد ہوجائے جس سے معنی بالکل بگڑ جائے تو نماز فاسد ہوجائے گی؟
یونیکوڈ مفسدات نماز 0