احکام حج

حج کرنے والے شخص کا عمرہ کی نیت سے سفر کرنا

فتوی نمبر :
86177
| تاریخ :
2025-09-17
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

حج کرنے والے شخص کا عمرہ کی نیت سے سفر کرنا

میں آپ سے حج کی تین اقسام کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں: حج اِفراد، قِران اور تَمَتُّع۔
اِفراد میں احرام صرف حج کے لئے باندھا جاتا ہے، اور یہ طریقہ مقامی رہائشیوں کے لئے ہے۔
تمتع میں سب سے پہلے آدمی احرام باندھ کر عمرہ کرتا ہے۔ عمرہ مکمل کرنے کے بعد احرام کھول دیتا ہے۔ پھر ۸ ذوالحجہ کو دوبارہ احرام باندھ کر حج کرتا ہے۔
قِران میں عمرہ اور حج دونوں ایک ہی احرام میں کیے جاتے ہیں، اور یہ سنت بھی ہے۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا حج ِقِران سنت ہے یا نہیں؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ پاکستان سے عموماً حج کی پروازیں حج سے ۲۰ سے ۲۵ دن پہلے شروع ہوجاتی ہیں۔ تو کیا یہ ممکن ہے کہ پاکستان سے کوئی شخص صرف عمرہ کی نیت کرے، سعودی عرب جائے، عمرہ ادا کرے اور پھر احرام کھول دے، باقی دن بغیر احرام کے گزارے. پھر وہ شخص ۶ یا ۷ ذوالحجہ کو زیارت کے لئے طائف چلا جائے اور وہاں سے حجِ قِران کی نیت کرے، مکہ آئے، عمرہ کرے اور پھر ۸ ذوالحجہ کو بغیر احرام کھولے منیٰ روانہ ہو، حج ادا کرے اور ۱۰ ذوالحجہ کو رمی، قربانی اور حلق کے بعد احرام کھولے، تو کیا یہ طریقہ درست ہوگا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح رہے کہ حج کے تینوں اقسام قرآن و سنت سے ثابت ہیں ، اس لئے ان کے درمیان یہ تقسیم کرنا کہ کونسی قسم سنت ہے اور کونسی قسم سنت نہیں ، درست نہیں ، بلکہ سب قرآن و سنت کے نصوص سے ثابت اور باعثِ فضیلت ہیں ۔ البتہ فضیلت کے اعتبار سے ان تینوں اقسام میں سے سب سے افضل حج ، حجِ قران ہے اور اس کی افضلیت کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے خود حجِ قران کی ادائیگی فرمائی تھی۔
پھر حجِ قران کی ادائیگی کے لئے حاجی کا آفاقی ہونا ضروری ہے ،جبکہ ایامِ حج میں آفاقی بھی مکہ مکرَّمہ پہنچنے کے بعد وہ آفاقی نہیں رہتا ، بلکہ وہاں کا مقامی کہلاتا ہے ۔ لہٰذا جو شخص سفرِ حج پر جاتے ہوئے عمرے کی ادائیگی کرکے احرام کھول لیتا ہے تو اس کے لئے وہاں سے حجِ قران کا احرام باندھنا درست نہیں ، بلکہ اس کے ذمہ عمرہ اور حج کے لئے الگ الگ احرام باندھنا ضروری ہوگا ، اور ایسی صورت میں اس کا حج ،حجِ تمتُّع شمار ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی احکام القرآن للجصاص:{‌فمن ‌تمتع ‌بالعمرة إلى الحج} . وقد بينا أن التمتع يجوز أن يكون اسما للحج للنفع الذي يحصل له بجمعه بينهما والفضيلة التي يستحقها به، ويجوز أن يكون اسما للارتفاق بالجمع من غير إحداث سفر آخر، وهو عليهما جميعا، فجائز أن يكون المعنيان جميعا مرادين بالآية، فينتظم القارن والمتمتع من وجهين: أحدهما: الفضيلة الحاصلة بالجمع، والثاني: الارتفاق بالجمع من غير إحداث سفر ثان.
وهذه المتعة مخصوص بها من لم يكن أهله حاضري المسجد الحرام، لقوله: {ذلك لمن لم يكن أهله حاضري المسجد الحرام} ومن كان وطنه المواقيت فما دونها إلى مكة فليس له متعة ولا قران وهو قول أصحابنا فإن قرن أو تمتع فهو مخطئ وعليه دم ولا يأكل منه; لأنه ليس بدم متعة وإنما هو دم جناية; إذ لا متعة لمن كان من أهل هذه المواضع لقوله: {ذلك لمن لم يكن أهله حاضري المسجد الحرام}الخ( مطلب الدھن المتنجس الخ ج1 ص348 ط: دار الکتب العلمیۃ ۔ بیروت)۔
و فی غنیة الناسک: وکذا لو خرج إلی الآفاق لحاجة فقرن لا یکون قارناً عند أبي حنیفة، وعلیہ رفض أحدھما ولا یبطل تمتعہ؛ لأن الأصل عندہ أن الخروج في أشھر الحج إلی غیر أھلہ کالإقامة بمکة فکأنہ لم یخرج وقرن من مکة (ص: 343-44 ط:جدید باکستان)۔
وفی بدائع الصنائع: وأما بيان أفضل أنواع ما يحرم به فظاهر الرواية عن أصحابنا أن القران أفضل، ثم التمتع، ثم الإفراد، وروي عن أبي حنيفة أن الإفراد أفضل من التمتع(الی قولہ)ولنا أن المشهور «أن النبي - صلى الله عليه وسلم - قرن بين الحج، والعمرة» رواه عمر وعلي وابن عباس وجابر وأنس رضي الله عنهم .(ج 2 ص174)۔
و فی الهداية:القران أفضل من التمتع والإفراد...ولنا قوله عليه الصلاة والسلام " يا آل محمد أهلوا بحجة وعمرة معا "ولأن فيه جمعا بين العبادتين فأشبه الصوم مع الاعتكاف والحراسة في سبيل الله مع صلاة الليل.(150/1)۔
و فی الدرالمختار:باب القران وهو أفضل لحديث «أتاني الليلة آت من ربي وأنا بالعقيق فقال: يا آل محمد أهلوا بحجة وعمرة معا» ولأنه أشق والصواب أنه - عليه الصلاة والسلام - أحرم بالحج ثم أدخل عليه العمرة لبيان الجواز فصار قارنا الخ(باب القران ج2 ص530 ط: سعید)۔
و فی بدائع الصنائع: وليس لأهل مكة، ولا لأهل داخل المواقيت التي بينها وبين مكة: قران ولا تمتع (الی قولہ) والصحيح قولنا؛ لأن الذين هم داخل المواقيت الخمسة منازلهم من توابع مكة، بدليل أنه يحل لهم أن يدخلوا مكة لحاجة بغير إحرام، فكانوا في حكم حاضري المسجد الحرام.وروي عن ابن عمر - رضي الله عنه - أنه قال: ليس ‌لأهل ‌مكة ‌تمتع، ولا قران، ولأن دخول العمرة في أشهر الحج ثبت رخصة لقوله تعالى: {الحج أشهر معلومات} قيل في بعض وجوه التأويل: أي للحج أشهر معلومات، واللام للاختصاص فيقتضي اختصاص هذه الأشهر بالحج، وذلك بأن لا يدخل فيها غيره إلا أن العمرة دخلت فيها رخصة للآفاقي ضرورة تعذر إنشاء السفر للعمرة نظرا له بإسقاط أحد السفرين، وهذا المعنى لا يوجد في حق أهل مكة.ومن بمعناهم فلم تكن العمرة مشروعة في أشهر الحج في حقهم الخ ( فصل بیان ما یحرم بہ المحرمون ج2 ص169 ط: دار الکتب العلمیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 86177کی تصدیق کریں
0     501
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات