تفریق و تنسیخ

مفتی صاحب کا کسی عورت کو تنسیخ نکاح کرکے دینا

فتوی نمبر :
87042
| تاریخ :
2025-10-01
معاملات / احکام طلاق / تفریق و تنسیخ

مفتی صاحب کا کسی عورت کو تنسیخ نکاح کرکے دینا

میں کراچی میں رہائش پذیر ایک مسلم متعلقہ ہوں. اگست 2024 میں میرا رشتے کے حوالے سے ایک شخص سے رابطہ ہوا جس نے بتایا کہ وہ ڈاکٹر ہے اور اس کا میڈیکل اسٹور بھی ہے،اس کی ماں نے دوسری شادی کی ہے اور اس کے باپ نے بھی اور اس کے سوتیلے بہن بھائی ہیں، میری ایک چھوٹی بچی ہے جو اپنی ماں کے پاس رہتی ہے اور میں اپنی بیوی کو چھوڑ چکا ہوں، بس طلاق نہیں دی. پھر اس نے نکاح کی دعوت دی اور کہا کہ میں کرائے پر مکان لوں گا اور آپ کی ضروریات پوری کروں گا،جیسا کہ میرے بھی خاندان میں میرا کوئی سرپرست نہیں تھا، لہذا ہم نے باہمی رضامندی سے قاضی کے ذریعے نکاح کر لیا، پھر وہ مجھے ایک ہوٹل لے گیا اور ہمارے درمیان ازدواجی تعلق بھی قائم ہو گیا، لیکن صبح وہ مجھے میرے گھر چھوڑ کر چلا گیا، کچھ دن رابطہ نہیں ہوا، اس کے بعد اس نے کہا کہ وہ کسی کاروباری مسئلے کی وجہ سے قانونی مسئلے میں پھنس گیا ہے اور اس کے بعد نہ وہ ملنے آیا، نہ اس نے میرے کوئی حقوق ادا کیے، پتہ چلا کہ وہ خیرپور چلا گیا ہے اور مجھ سے بات کرتا رہا کہ آئے گا، لیکن آیا نہیں، پھر یہ بھی پتہ چلا کہ اس نے مجھے جھوٹ کہا تھا، نہ وہ ڈاکٹر ہے نہ اس کا کوئی میڈیکل سٹور ہے، بلکہ وہ لوگوں سے کاروبار میں فراڈ کرتا ہے اور اس کے خلاف ایف آئی آر بھی درج ہیں، اور کئی لوگ اس کے اوپر پرچہ بھی کر چکے ہیں، اس دوران اس کے والد سے بھی رابطہ ہوا اور انہوں نے بتایا کہ یہ سب جھوٹ بتایا ہے، نہ اس کے ابو نے دوسری شادی کی ہے، نہ اس کی امی نے، اور اس کی کوئی سوتیلے بہن بھائی نہیں ہیں، بلکہ سگے ہیں، کچھ مہینوں تک تو مختلف دو تین نمبر سے اس سے بہت عرصے بعد رابطہ رہا، لیکن پھر وہ بالکل غائب ہو گیا، نہ اس کا کوئی پتہ چلا نہ اس نے مجھ سے کوئی رابطہ کیا ، اس دوران نہ مجھے کوئی خرچہ بھیجا اور نہ میرا مہر ادا کیا تھا، اور اس کے والد اور والدہ سے جب بھی بات ہوتی، وہ یہی کہتے کہ ہمیں نہیں پتہ وہ کہاں ہے، وہ اپنے قانونی مسائل میں پھنسا ہوا ہے، اور ہمیں خود اس کی خبر نہیں اور یہ بھی بتایا کہ اس کی بیوی اس کے ساتھ ہے میں نے جب بھی اس سے رابطے کے دوران پوچھا کہ مجھے چھوڑنا چاہتا ہے یا میرا فیصلہ کر دے، تو اس نے مجھے کہا کہ میں تمہیں طلاق نہیں دینا چاہتا اور میں اپنے مسئلے ختم کر کے آؤں گا۔ جولائی 2025 میں اس نے مجھے کہا کہ میں تین مہینے بعد آؤں گا لیکن ابھی تک نہ اس نے کوئی رابطہ کیا، نہ وہ آیا، جب کہ اس کے والد اور والدہ کہتے ہیں کہ ہمیں اس کی کوئی خبر نہیں ہے نکاح کے تقریباً دو مہینے بعد میرا ایک مفتی سے رابطہ ہوا ، ان کو سارا مسئلہ بتایا پھر انہوں نے اس کے والد سے بات بھی کی، لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور پھر ایک وکیل گواہ سے بھی بات کی جس کو اس سارے معاملے کی خبر تھی پھر مفتی صاحب نے اپنے طور پہ مجھے تنسیخ نکاح کا فیصلہ دے دیا اس بنا پر کہ وہ دھوکے باز ہے اور وہ کبھی نہیں ائے گا تو انہوں نے مجھے فون پر اعلانیہ کہہ دیا کہ میں اپ کا نکاح تنسیخ کرتا ہوں فلاں شخص کے ساتھ لیکن کوئی تحریر نہیں دی اور تحریر میں تنسیخ نکاح طلب کرنے پر کہتے ہیں کہ ہم تحریر میں فسق نکاح نہیں دیں گے واضح رہے کہ نکاح نامہ میرے پاس ہے جو کہ رجسٹرڈ بھی نہیں ہے۔ لیکن جس سے میرا نکاح ہوا اس کے علم میں یہ بات نہیں ہے اور اس کے کہنے کے مطابق نہ تو اس نے مجھے طلاق دی ہے، نہ وہ مجھے چھوڑنا چاہتا ہے ،بلکہ وہ اپنے قانونی مسئلے ختم کر کے آئے گا۔ لیکن وہ قانونی طور پر فرار ہے۔
اب اس مسئلے میں میرے لیے کیا شرعی حکم ہے کیا مفتی صاحب کے کہنے پر میرا نکاح ختم ہو چکا ہے یا اس بنا پر کہ اس نے رابطہ کر کے کچھ مہینے پہلے کہا کہ وہ ائے گا اور اس نے مجھے نہیں چھوڑا میرا نکاح اس کے ساتھ برقرار ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ مسلم حکومتِ وقت کی جانب سے مقررہ قاضی کی موجودگی میں کسی بھی دوسرے فرد کو کسی کے نکاح کو فسخ کرنے کا اختیار حاصل نہیں اور نہ ہی ایسا کرنے سے شرعاً نکاح فسخ ہوتاہے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کا مذکور شخص سے نکاح بدستور برقرار ہے ، اور مفتی صاحب کی طرف سے فسخ نکاح کے اعلان کی کوئی شرعی حیثیت نہیں۔تاہم سائلہ کا بیان اگر حقیقت پر مبنی ہو اور اس میں کسی قسم کی کوئی غلط بیانی اور خلافِ حقیقت بات نہ کی گئی ہو، بایں طور کہ مذکور شخص نےاس سے نکاح کر رکھا ہو اور اب اس کے نان و نفقہ اور بنیادی حقوق کی ادائیگی نہ کرتاہو اور سائلہ کے لیے ان حالات میں عفت و عصمت کی حفاظت اور ضروریات زندگی کو پورا کرنا مشکل ہوگیا ہو ، اور باربار رابطہ کرنے کے باوجود وہ اپنے ذمہ واجب حقوق کی ادائیگی سے غفلت برت رہا ہو ، اور سائلہ کے مطالبہ طلاق پر بھی طلاق دینے پر آمادہ نہ ہو ، تو ایسی صورت میں سائلہ مسلمان قاضی ( جج ) کی عدالت میں تنسیخ نکاح کا دعویٰ دائر کرکے اپنا نکاح فسخ کرواسکتی ہے ، جس کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے سائلہ عدالت میں مقدمہ دائر کرکے اپنا نکاح عدالت میں گواہوں کے ذریعہ ثابت کرے، اسی طرح جن اسباب کی بنا پر فسخ نکاح کا دعویٰ کرنا چاہتی ہے ان کو بھی گواہوں کے ذریعہ ثابت کرے، اور اگر اس کے پاس گواہ موجود نہ ہوں یا گواہ تو موجود ہوں، مگر کسی بھی وجہ سے وہ پیش نہ کرسکے ، تو ایسی صورت میں اگر شوہر عدالت میں حاضر ہوجائے تو قاضی اس سے قسم لے گااگر شوہر قسم کھانے سے انکار کردے تو عورت کا دعویٰ تسلیم کیا جائے گا، اور قاضی شوہر کو حکم دے گا کہ یا تو بیوی کو اپنی استطاعت کے مطابق نان و نفقہ دے، یا خلع و طلاق میں سے کسی پر رضامند ہوجائے، اگر شوہر ان میں سے کسی پر راضی ہو تو قاضی اس کے مطابق فیصلہ کرے گا ، اور اگر شوہر ان دونوں ( خلع یا طلاق ) میں سے کسی پر بھی راضی نہ ہو ، تو قاضی از خود نکاح فسخ کردے گا ، اور اگر شوہر عدالت کے باربار نوٹس جاری کرنے کے باوجود بھی نہ خود حاضر ہو اور نہ ہی اپنا کوئی نمائندہ بھیجے تو اس صورت میں اگر عورت کے پاس گواہ موجود ہوں تو وہ پیش کردے تو عدالت ان گواہوں کی شہادت کی بنیاد پر بیوی کے حق میں فسخ نکاح کا فیصلہ کرے گی ، اور اگر عورت گواہ پیش نہ کرسکے تو عدالت کی جا نب سے باربار طلب کیے جانے کے باوجود بھی خاوند یا اس کے و کیل حاضر نہ ہوں تو یہ خاوند کی جانب سے نکول ( قسم سے انکار ) شمار ہوگا ، اب قاضی نکول کی بنیاد پر فیصلہ کرکے دونوں کے درمیان فسخ ِ نکاح کا فیصلہ کردے گا ، جس سے شرعاً ایک طلاقِ بائن واقع ہوکر دونوں کا نکاح ختم ہوجائےگا ۔ اس کےبعد عورت عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے بھی آزاد ہوگی ۔
جن اسباب کی بنیاد پر قاضی شرعی میاں بیوی کے درمیان فسخِ نکاح کرسکتا ہے ،وہ درج ذیل ہیں : ( 1) شوہر پاگل یا مجنون ہو(2) شوہر نان و نفقہ ادا نہ کرتا ہو ( 3 ) شوہر نامرد ہو ( 4 ) شوہر مفقود الخبر ہو یعنی بالکل لاپتہ ہو ( 5 ) شوہر غائب غیر مفقود ہو ۔ ان اسباب میں سے کسی ایک کی موجودگی میں عورت مسلمان جج کی عدالت میں دعویٰ داخل کردے اور قاضی حسبِ شرائط مذکور فسخِ نکاح کردے تو شرعاً قاضی کا فیصلہ نافذالعمل ہوگا ، لہذا صورت مسئولہ میں سائلہ کی دیگر طریقوں سے شنوائی نہ ہو رہی ہو اور عدالت میں دعویٰ دائر کیے بغیر معاملہ حل ہوتا نظر نہ آرہاہو تو وہ مذکور عدالتی طریقہ اختیار کرسکتی ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالیٰ:وَعَلَى ٱلۡمَوۡلُودِ لَهُۥ رِزۡقُهُنَّ وَكِسۡوَتُهُنَّ بِٱلۡمَعۡرُوفِۚ(البقرۃ: 233)ـ
و فی الھندیۃ: ولا يكون ‌التفريق ‌بذلك إلا عند القاضي أما بدون فسخ القاضي فلا ينفسخ النكاح بينهما وتكون هذه فرقة بغير طلاق حتى لو لم يكن الزوج دخل بها فلا شيء لها من المهر، كذا في المحيط اھ ( الباب الخامس فی الأکفاء فی النکاح، ج:1،ص : 292، ناشر: المطبعۃ الأنصاریۃ )-
و فیھا أیضاً : إن علمت ‌المرأة ‌وقت ‌النكاح أنه عنين لا يصل إلى النساء لا يكون لها حق الخصومة، وإن لم تعلم وقت النكاح وعلمت بعد ذلك كان لها حق الخصومة ولا يبطل حقها بترك الخصومة، وإن طال الزمان ما لم ترض بذلك كذا في فتاوى قاضي خان اھ ( الباب الثانی عشر فی العنیین، ج:1، ص: 524، ناشر: المطبعۃ الأنصاریۃ)-
و فی المحیط البرھانی : ولا يكون ‌التفريق ‌بذلك إلا عند القاضي، يريد به: أنه ينبغي للولي أن يرفع الأمر إلى القاضي ليفسخ القاضي العقد بينهما أما بدون فسخ القاضي لا ينفسخ النكاح بينهما اھ ( فصل فی الکفاءۃ، ج:1، ص: 24، ناشر: دار الکتب العلمیۃ)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بشیر احمد جمعہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 87042کی تصدیق کریں
2     535
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کیابدکاری کی تہمت لگانےسے نکاح ختم ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • کلمۂ کفر کہنے سے نکاح ٹوٹنے کا حکم

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • شادی شدہ عورت اگر کسی کے ساتھ بھاگ کر چلی جائے تو اس کا نکاح ختم ہو جاتاہے؟نیز اس عورت کو ازخود قتل کیا جاسکتا ہے ؟

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 1
  • عدالتی خلع کا متبادل-ایصالِ ثواب

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • حقوق زوجیت پر قادر نہ ہونے والے شخص کا طلاق کے بعد مہر نہ دینا

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • شوہر کے ساتھ نکاح کے برقرار ہوتے ہوئے کسی غیر مرد کے ساتھ رہنا

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • زوجہ متعنت کیلئے کیا حکم ہے ؟

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • بیوی کے ساتھ جماع پر قادر نہ ہونے والے شوہر سے علیحدگی کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • بیوی کے حقوق ادا نہ کرنے والے شوہر سے علیحدگی کیسی حاصل کی جائے ؟

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • شوہر حقوق ادا نہ کرے تو کیا بیوی خلع لے سکتی ہے

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • ظالم شوہر کے خلع یا طلاق نہ دینے کی صورت میں عدالت سے خلاصی کا طریقہ

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 3
  • کیا طویل عرصہ ازدواجی تعلقات قائم نہ کرنے کی وجہ سےطلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 1
  • شوہر کا بیوی کے حقوق ادا نہ کرنا

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 2
  • لاپتہ و مفقود شوہر کے نکاح سے اس کی بیوی کو نکالنے کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • جادو کروانے والی عورت کا نکاح باقی رہتا ہے یا نہیں؟

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • انجانے میں بیوی کو ”ماں“ کہہ دینے سے نکاح پر کیا اثر ہوگا؟

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • کن چیزوں سے نکاح از خود ٹوٹ جاتا ہے؟

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • بیوی کو بہن بولنے سے نکاح کا حکم

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • کیامیاں بیوی کےالگ رہنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • کیا میاں بیوی کا ازدواجی تعلق کے بغیر ایک ساتھ رہنےسے نکاح ختم ہوجاتا ہے؟

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • بیوی کا شوہر کو بھائی جیسا کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • نومسلمہ لڑکی کانکاح کے بعد مرتد ہو جانے سے نکاح کا حکم

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • طلاق یا خلع دیے بغیر محض الگ رہنے سے کیا نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • بیوی کا لاعلمی میں کلمۂ کفر کہنے سے نکاح کا حکم

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • نکاح کے بعد شوہر رخصتی کرے ، نہ طلاق دے تو عورت کیا کرے ؟

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
Related Topics متعلقه موضوعات