۱۔ گزارش ہے کہ ایک آدمی گاڑیوں کے شو روم پر گاڑی پسند کر کے خود مبلغ دس لاکھ روپے کی خریدتا ہے، اس کے پاس نصف رقم مبلغ پانچ لاکھ (500000) موجود ہے جبکہ بقیہ رقم کے بارے میں شوروم کے مالک سے کہتا ہے، آپ باقی رقم چار ماہ کے لئے کسی تیسرے شخص سے ادھار لےکر مکمل پیمنٹ لے لیں۔چار ماہ بعد میں یہ رقم نفع کے ساتھ ادا کر کے گاڑی کے کاغذات اصل وصول کروں گا۔ شو روم مالک خریدار سے ہر ماہ 5000 روپے فی لاکھ نفع لگا لیتا ہے. 4 ماہ بعد خریدار ، 5 لاکھ ادھار کے ساتھ مبلغ ایک لاکھ نفع بھی شوروم پر جمع کرا کر اصل کاغذات وصول کر لیتا ہے۔ دین اسلام کی رو سے کیا یہ نفع کی رقم ادھار دینے والے کے لیے حلال یا حرام ہے؟مہربانی فرما کر فتویٰ جاری کریں۔
صورت مسئولہ میں بقیہ پانچ لاکھ روپوں پر ایک لاکھ زائد رقم وصول کرنا سود کے زمرے آنے کی وجہ سے شرعاً نا جائز اور حرام ہے، جس سے احتراز لازم ہے البتہ اس کے جواز کی یہ صورت ہو سکتی ہے کہ ابتداءً عقد کے وقت ہی گاڑی وغیرہ کی قیمت دس لاکھ کے بجائے گیارہ لاکھ مقرر کرلی جائے اور قسطوار یہ رقم ادا کر دی جائے، لیکن اس کے بعد کسی بھی وجہ سے اصل قیمت (گیارہ لاکھ )سے زائد رقم وصول نہ کی جائے، ورنہ یہ معاملہ نا جائز ہو جائے گا۔
ففي الدر المختار: (وصح بثمن حال) وهو الأصل (ومؤجل إلى معلوم) لئلا يفضي إلى النزاع اھ (4/ 531)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: فوق قيمته) أي شراء بثمن مؤجل فوق ما يباع بثمن حال لأن قيمة المؤجل فوق قيمة الحال (قوله ويكون الربح) أي ما ربحه بائع المتاع بسبب التأجيل اھ (4/ 440)
و في الدر المختار: و في الأشباه كل قرض جر نفعا حرام اھ (5/ 166)
و في المبسوط للسرخسي: وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم (إلی قوله) فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم وأتما العقد عليه فهو جائز لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد. اھ (13/ 13)
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0