ہماری کمپنی ہر سال قرعہ اندازی کے ذریعہ ایک شخص کوحج کرواتی ہے، میرا سوال یہ ہے کہ کسی کمپنی کی حج اسکیم کے تحت حج کرنا شریعت کی روشنی میں کیسا ہے ؟اگر سائل کی حالت ایسی نہ ہو کہ وہ حج ادا کر سکے ،اور اگر مالی حالت اچھی ہو اور سائل حج اپنے پیسے سے ادا کر سکتا ہو ؟ شریعت کی روشنی میں جواب دیں ۔
کمپنی کی طرف سے حج پر جانا بھی جائز ہے ، اگر جانے والا خود صاحبِ نصاب ہو اور اس نے ابھی تک حج ادا نہ کیا ہو تو اس جانے سے بھی اس کے ذمہ سے فریضۂ حج کی ادائیگی درست شمار ہوگی ۔