اگر کوئی شخص کسی سے پیسے قرض لے اور بیس سال بعد وہ رقم ناقابل ہو جائے یا اتنی كم قيمت ہو جائے کہ تقریباً ناقابلِ ہو، تو ایسی صورت میں قرض دار قرض دینے والے کو کیا دے گا؟
واضح ہو کہ قرض جس کرنسی اور جس مقدار میں لیا جائے ،تو مقروض شخص کے ذمہ اسی کرنسی اور اتنی ہی مقدار میں قرض کی واپسی لازم ہوتی ہے ، چاہے جتنے عرصے بعد واپسی ہو، قرض میں دی گئی رقم کی ویلیوکے گھٹنے کا شریعت نے اعتبار نہیں کیا ہے ۔
لہذا مذکور صورت میں اگر کسی شخص نے بیس سال پہلے جتنا قرض لیا تھا،تو اب اس کی واپسی اسی حساب سے ہو گی ،اگر چہ اب انکی ویلیو زیادہ عرصہ گزرنے کی وجہ سے گٹھ گئی ہو۔قرض خواہ زیادہ رقم کا مطالبہ نہیں کرسکتا،بشرطیکہ نوٹ رائج اور زیر استعمال ہوں،حکومت کی طرف سےبند نہ کیے گئے ہوں تا ہم قرض ادا کرنے والا اگر حسن قضاء پر عمل کرتے ہوئے اپنی خوشی ورضامندی سے ،بغیر کسی جبر واکراہ کے کچھ ذیادہ دینا چاہے تو اس کا بھی اسے اختیار ہے،اور اسے ایسا ہی کرنا چاہیئے۔
کما فی الدر المختار: (هو) لغة: ما تعطيه لتتقاضاه، وشرعا: ما تعطيه من مثلي لتتقاضاه وهو أخصر من قوله (عقد مخصوص) أي بلفظ القرض ونحوه (يرد على دفع مال) بمنزلة الجنس (مثلي) خرج القيمي (لآخر ليرد مثله) خرج نحو وديعة وهبة الخ (فصل فی القرض، ج 5، ص 161،ط: سعید)۔
وفی رد المحتار: وإن استقرض دانق فلوس أو نصف درهم فلوس، ثم رخصت أو غلت لم يكن عليه إلا مثل عدد الذي أخذه الخ ( فصل فی القرض، ج 5، ص 162،ط: سعید)۔
وفیہ ایضاً: الديون تقضى بأمثالها الخ (مطلب في قبول قوله دفعت المال،ج 4، ص 320، ط: سعید)۔
وفی تنقيح الحامدية:رجل استقرض من آخر مبلغا من الدراهم وتصرف بها ثم غلاا سعرهافهل عليه ردمثلها؟ نعم ولا ينظر الى غلاء الدراهم ورخصها الخ ۔(باب القرض ،ج 1، ص 294 ط: حقانية)۔
وفی الدر المختار:وكذا كل ما يكال ويوزن لما مر أنه مضمون بمثله فلا عبرة بغلائه ورخصه الخ
وفی الشامیۃ تحت: (قوله فلا عبرة بغلائه ورخصه) فيه أن الكلام في الكساد، وهو ترك التعامل بالفلوس ونحوها كما قلنا، والغلاء والرخص غيره، وكأنه نظر إلى اتحاد الحكم فصح التفريع تأمل(الی قولہ) وإن استقرض دانق فلوس أو نصف درهم فلوس، ثم رخصت أو غلت لم يكن عليه إلا مثل عدد الذي أخذه الخ( فصل فی القرض،ج 5،162،ط: سعید)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0