کیا فرماتے ہیں علماءِکرام! اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے اپنے گھر کی تعمیر کے سلسلے میں اپنی بہو ہندہ سے پانچ تولہ سونے کا سیٹ لیا کہ بعد میں آپ کو بنوا کر دوں گا ،لیکن ادائیگی سے پہلے ہی زید کا انتقال ہو گیا ،اس وقت سونے کی قیمت 45000 تھی ، زید کے انتقال کے بعد زید کی اولاد کے بعض افراد نے وقتاً فوقتاً اپنی بھابھی سے اس سونے کے سیٹ کی ادائیگی کی بابت پوچھا ،تو ہندہ نے کبھی خاموشی اختیار کی، اور کبھی یہ کہا کہ یہ میرا اور میرے سسر کا معاملہ ہے میں نے نہیں لینا ، اب جبکہ زید کو فوت ہوئے دس سال ہو گئے ہیں، اور گھر کو بیچ کر زید کی اولاد کے مابین تقسیم کا وقت آیا ہے، تو ہندہ نے اپنے پانچ تولہ سونے کے سیٹ کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے، حالانکہ زید کے ذمے واجب الادا قرض بہت پہلے ادا کیا جاچکا تھا، اور اب سونے کی قیمت فی تولہ چار لاکھ سے زیادہ ہے ،ہندہ کا کہنا ہے کہ میں نے پہلے اس لئے لینے کا مطالبہ نہیں کیا کہ میں نےسوچا تھا کہ اگر گھر(جوکہ زید کی اولاد کی مشترکہ رہائش گاہ ہے)بکے گا تو مطالبہ کروں گی ورنہ نہیں ، دوسرا اس وجہ سے بھی میں نے لینے کا مطالبہ نہیں کیا کیونکہ مجھ سے صحیح انداز میں (یعنی صرف اس ادائیگی کو موضوع بحث بناکر گفتگو) نہیں پوچھا گیا ،اس ذکر کردہ تفصیل کے بعد درج ذیل امور کے بارے میں مسئلہ کا حل شریعت کی روشنی میں ارشاد فرمائیں :
1-کیا اب ہندہ کا مطالبہ کرنا درست ہے جبکہ قیمت دس گناہ بڑھ چکی ہے ؟
2- اگر مطالبہ درست ہے تو کس وقت کی قیمت ادا کی جائے گی ؟
3- کیا سیٹ بنوا کر ہی دینا ہوگا یا سیٹ کی قیمت بھی ادا کیجا سکتی ہے جبکہ ہندہ کا مطالبہ سیٹ لینے کا ہی ہے ۔
صورتِ مسئولہ میں زید (سسر) نے اپنی بہو (ہندہ) سے مکان کی تعمیر کے وقت جو پانچ تولہ سونے کا سیٹ لیا تھا ، چونکہ وہ بطور قرض لیا تھا ،( جیسا کہ سوال میں مذکور ہے ) تو ایسی صورت میں زید کے ذمہ مذکور سونے کا سیٹ قرض تھا ، جس کی ا دائیگی زید پر لازم تھی ، لہذا اگر زید نے اپنی زندگی میں مذکور سونے کا سیٹ اپنی بہو ( ہندہ) کو واپس نہ کیا ہو ،اور نہ ہی ہندہ نے صراحۃً معاف کیا ہو،تو فقط ہندہ کے خاموشی اختیار کرنے سے یا اپنے حق کے مطالبہ میں تاخیر کرنے سے اس کا حق ساقط نہیں ہوا،بلکہ بدستور قائم ہے، جس کی ادائیگی اب زید کے انتقال کے بعد اس کے ترکہ سے کرنا لازم ہو گی،اب زید کے مکان کے فروخت ہونے کے وقت اگر ہندہ کا مطالبہ سونے کی وصولی کا ہی ہے ،تو چونکہ قرض کا معاملہ تھا ،اس لئے مرحوم کے ترکہ میں سے سونے کا سیٹ دینا لازم ہو گا ،تاہم اگر ہندہ اس کی قیمت لینے پر رضامند ہو جائے ،تو موجود ہ ریٹ کے حساب سے قیمت میں بھی ادائیگی کی جاسکتی ہے ۔
کما فی الدر المختار: (و) الدین الصحیح (ھو) ما لا یسقط إلا بالأداء أو الإبراء الخ ( کتاب الکفالۃ ج:5،ص:302،ط: سعید)۔
و فیہ أیضا: (استقرض من الفلوس الرائجۃ و العدالی فکست فعلیہ مثلھا کاسدۃ ) و ( لا) یغرم ( قیمتھا ) و کذا کل کل ما یکال و یوزن لما مر أنہ مضمون بمثلہ فلا عبرۃ بغلائہ و رخصہ ذکرہ مبسوط من غیر خلاف الخ ۔
و فی رد المحتار: تحت ( قولہ) فعلیہ مثلھا کاسدۃ ) أی إذا ھلکت و إلا فیرد عینھا اتفاقا کما فی صرف الشرنبلالیۃ و فیہ کلام سیأتی ( قولہ فلا عبرۃ بغلائہ و رخصہ ) فیہ أن الکلام فی الکساد وھو ترک التعامل فی بالفلوس و نحوھا کما قلنا و الغلاء و الرخصۃ و غیرہ و کأنہ نظر إلی إتحاد الحکم فصح التفریع تأمل ( إلی قولہ ) و إن استقرض دانق فلوس أو نصف درھم فلوس ثم رخصت أو غلت لم یکن علیہ إلا مثل عدد ألذی أخذہ و کذلک لو قال أقرضتنی عشرۃ دراھم غلۃ بدینار فأعطاہ عشر دراھم فعلیہ مثلھا و لا ینظر إلی غلاء الدراھم و لا إلی رخصھا و کذالک کل ما یکال و یوزن فالقرض فیہ جائز و کذلک ما یعد من البیض و الجوز الخ ( فصل فی القرض ج 5، ص 162، ط: سعید )۔
و فیہ أیضا: الدیون تقضی بأمثالھا فیثبت للمدیون بذمۃ الدائن مثل ما للدائن بذمتہ فیلتقیان الخ ( کتاب الشرکۃج:4،ص:320،ط:سعید)۔
و فی الدر أیضا: (ثم) تقدم (دیونہ التی لھا مطالب من جھۃ العباد) و یقدم دین الصحۃ علی دین المرض إن جھل سببہ و إلا فسیان الخ
و فی رد المحتار: تحت (قولہ و یقدم دین الصحۃ) ھو ما کان ثابتاً بالبینۃ مطلقاً أو با لإقرار فی حالۃ الصحۃ الخ (کتاب الفرائض ج: 6،ص: 760ط:سعید )۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0