مفتی صاحب! آپ کیسے ہیں؟مفتی صاحب! میرے والد صاحب کو میرے دادا ابو نے تقریباً چھ سال پہلے تقریباً بائیس لاکھ روپے دیے تھے بطور قرض، کچھ وقت گزرنے کے بعد جب میرے دادا ابو نے میرے والد سے کہا کہ میرے پیسے واپس کر دو، تو والد صاحب نے کہا کہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں، والد صاحب نے اس وقت جھوٹ بولا تھا، والد صاحب کے پاس اُس زمانے میں سارے پیسے تو نہیں تھے، لیکن کچھ پیسے ضرور تھے،جب بھی دادا ابو اپنے پیسوں کے بارے میں بات کرتے تھے تو والد صاحب کہتے تھے کہ ہم جس گھر میں رہتے ہیں وہ گھر بیچ دیتے ہیں، اور اسے بیچ کر آپ کے جو پیسے ہیں وہ واپس کر دیں گے، اس پر دادا ابو نے کہا کہ وہ پیسے حصہ سے کاٹوں گا۔
مفتی صاحب! میرے والد کے پاس سارے پیسے تو نہیں تھے مگر کچھ رقم موجود تھی، اگر والد صاحب تھوڑے تھوڑے پیسے دیتے رہتے تو شاید اب تک سارا قرض ختم ہو چکا ہوتااگر نصیب میں ہوتا۔
مفتی صاحب! اگر دادا ابو اپنی زندگی میں اپنی اولاد کو کوئی حصہ دیتے ہیں، تو شرعاً میرے والد کے حصے سے کتنی رقم کاٹنا بنتا ہے؟
اور اگر دادا ابو کے انتقال کے بعد وراثت تقسیم ہوتی ہے، تو پھر کیا مسئلہ ہوگا پیسوں کے بارے میں؟
مفتی صاحب! دادا ابو کی وفات کے بعد جب وراثت تقسیم ہوگی، تو میرے والد کے جو بھائی اور بہنیں ہیں وہ زیادہ تر میرے والد کے خلاف ہیں، اور انہیں میرے والد سے تکلیف ہوتی ہے،تقریباً سب ہمارے خلاف ہیں، صرف ایک بھائی کو چھوڑ کر، جو ہمارے خلاف نہیں ہے۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کے والد کااپنے والد ( سائل کے دادا )سے بطورِ قرض لی جانے والی رقم کو داداکی جانب سے اس قرض کی ادائیگی کے مطالبہ کرنے اور واپس کرنے کی وسعت کے ہوتے ہوئے اسے ٹال مٹول کرنا اور جھوٹ بولنا جائز نہیں تھا،بلکہ وہ اس بلا عذر ٹال مٹول کرنے اور جھوٹ بولنے کی وجہ سے گناہ گار بھی ہوئےہے،اس لئے اس کو اللہ کے حضور بصدقِ دل توبہ و استغفار اور آئندہ کیلئے کسی بھی قرض کی واپسی میں ٹال مٹول اور جھوٹ بولنے سے مکمل احتراز لازم ہے، تاہم اگر والد صاحب کی جانب سے گھر کےفروختگی کے مشورہ کے جواب میں والد نے اس گھر کو فروخت کرنے کے بجائے وہ قرض اپنے مال و جائیداد کی تقسیم کرتے وقت اس کے حصہ میں آنے والے حصہ میں سے منہا کرنے کا کہا ہو، تو ایسی صورت میں چونکہ ہرشخص اپنی صحت والی زندگی میں اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے اور وہ اس میں ہر جائز قسم کے تصرف کا اختیار رکھتا ہے اس لئے سائل کے دادا کو بھی اپنے مال و جائیداد کو اپنی زندگی میں تقسیم کرنے کی صورت میں اپنے بیٹے ( سائل کے والد) کو دیے ہوئے قرض کے بقدر یا کم و بیش اس کے حصہ سے کٹوتی کرنے کا اختیار حاصل ہے، البتہ اگر وہ اپنی زندگی میں اپنا مال و جائیدا دتقسیم نہ کرنے کی بناء پر اسےدیے ہوئے قرض کو اس کےحصہ میں سے منہا نہیں کرتا،اور نہ ہی سائل کے والد اپنے والد کے قرض کو اس کی زندگی میں ادا کرتاہے اور نہ ہی سائل کے دادا اُسے معاف کرتا ہے تو ایسی صورت میں سائل کے دادا کے انتقال کی صورت میں سائل کے والد کے ذمہ واجب الادا قرض دادا کے ترکہ میں شمار ہوکر اس قدر رقم کو ترکہ میں جمع کرنا لازم ہوگا اور اس رقم کو ترکہ میں شامل کرنے کے بعد اس کے تمام ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کرنا لازم ہوگا،اور ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں یہ رقم سائل کے والد کے حصہ میراث سے منہا ہوگی۔
کما فی صحیح البخاری: حدثنا مسدد: حدثنا عبد الأعلى، عن معمر، عن همام بن منبه، أخي وهب بن منبه: أنه سمع أبا هريرة رضي الله عنه يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (مطل الغني ظلم) إلخ(کتاب القرض وأداء الدین إلخ، باب مطل الغنی ظلم، ج: 2، ص: 845، ط: دار ابن کثیر)۔
وفی شرح المجلۃ لخالد الأتاسی: کل یتصرف فی ملکہ کیفما شاء إلخ( الفصل الأول فی بیان بعض القواعد المتعلقۃ بأحکام الاملاک، المادۃ: 1192، ج: 3، ص: 190، ط: إدارۃ الکتب العلمیۃ )۔
وفی بدائع الصنائع: وأما حكم القرض فهو ثبوت الملك للمستقرض في المقرض للحال، وثبوت مثله في ذمة المستقرض للمقرض للحال، وهذا جواب ظاهر الرواية الخ(فصل فی حکم القرض، ج: 7، ص: 396، ط: دار الکتب العلمیۃ)۔
وفی البحر الرائق: قال رحمه الله (يبدأ من تركة الميت بتجهيزه) المراد من التركة ما تركه الميت خاليا عن تعلق حق الغير بعينه، وإن كان حق الغير متعلقا به كالرهن والعبد الجاني والمشتري قبل القبض فإن صاحبه يقدم على التجهيز كما في حال حياته فحاصله أنه معتبر بحال حياته فإن المرء يقدم نفسه في حال حياته فيما يحتاج إليه من النفقة والكسوة والسکنی على أصحاب الدين ما لم يتعلق حق الغير بعين ماله فكذا بعد وفاته يقدم تجهيزه من غير تقتير ولا تبذير إلخ(کتاب الفرائض، ج: 8، ص: 489، ط: ماجدیۃ)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0