میرا نام حبیب الرحمٰن ہے ،جبکہ میرے شناختی کارڈ پر میرا نام حبیب الرحمان لکھا گیا ہے، الرحمٰن اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے جو کہ م کے اوپر کھڑی مد کے ساتھ لکھا جاتا ہے نہ کہ م اور الف کے ساتھ، لہذا میں اپنے نام کی درستگی کروانا چاہتا ہوں ، نادرا والے اس ضمن میں فتویٰ مانگتے ہیں ۔مہربانی فرما کر مجھے فتویٰ جاری کیا جائے، تاکہ میں اپنا نام درست کروا سکوں ۔جزاک اللہ !
واضح ہوکہ لفظ”الرحمٰن “ فعلان کے وزن پر اسم مبالغہ کا صیغہ ہے، اس لفظ کی املاء عربی کتابت میں عموماً بغیر الف کے” م “کے اوپر کھڑے زبر کے ساتھ ہوتی ہے ،البتہ اردو إملاء میں دونوں طرح الف کے ساتھ یا بغیر الف کے ”م“ پر کھڑا زبر کے ساتھ دونوں درست ہے، لہذا سائل کےشناختی کارڈ پر درج نام میں لفظ ”الرحمان “ جو الف کے ساتھ لکھا گیا ہے ،یہ بھی درست ہے ، اس میں کوئی حرج نہیں،البتہ سائل اسے عربی رسم الخط "رحمن"میں تبدیل کرنا چاہے تو کرسکتاہے۔
تحریر کیسے سیکھیں میں ہے کہ: عربی میں الف صرف ”ی“ کے اوپر نہیں کبھی دوسرے حروف کے اوپر بھی لکھا جاتا ہے، جیسے: اسمٰعیل، اسحٰق سلیمٰن۔ اس الف کو الف مقصورہ سمجھنا غلطی ہوگی، یہاں الف ”ی“ کا بدل نہیں ہے بلکہ الف کی پوری آواز دیتا ہے۔ اس لیے اُردو املاء میں ان الفاظ کو اسماعیل، اسحاق اور سلیمان لکھنا چاہیے (ص: 232)۔
فیروز اللغات میں ہے : رحمان(رحمٰن) مہربانی کرنے والا شفیق، رحیم، ( مادہ رحم، ص: 706)۔